اسرائیل نے غزہ جانے والی امدادی کشتی کے کارکنوں کو ملک بدر کرنے کی تیاری کر لی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتی "مدلین" پر سوار سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت تمام 12 کارکنوں کو تل ابیب ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے انہیں ملک بدر کیا جائے گا۔
اس کشتی کو اسرائیلی بحریہ نے گزشتہ روز بین الاقوامی پانیوں میں روکا اور اشدود بندرگاہ لے جایا گیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر بتایا, ’’سیلفی یاٹ‘ کے تمام مسافروں کو بن گوریان ایئرپورٹ پہنچا دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے وطن واپس جا سکیں۔"
وزارت نے مزید کہا کہ جن افراد نے ملک بدری کے کاغذات پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے، انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ادھر، فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے تصدیق کی ہے کہ تمام کارکنوں کو اسرائیلی تحویل میں دے دیا گیا ہے اور امکان ہے کہ وہ آج رات ہی واپس روانہ ہو سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔