اسرائیل نے امدادی کشتی فریڈم فلوٹیلا ’میڈلین‘ کو قبضے میں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
غزہ کے لیے امداد لے جانے والی فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی کشتی ’میڈلین‘ کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں روک کر اپنے قبضے میں لے لیا اور اسے اشدود بندرگاہ پر منتقل کر دیا گیا۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق، کشتی میں موجود تمام افراد کا طبی معائنہ کیا گیا، جن میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمان کی رکن ریما حسن بھی شامل تھیں۔
رپورٹس کے مطابق، بندرگاہ پر پہنچنے کے بعد فریڈم فلوٹیلا کے مسافروں کو ایک کمرے میں لے جا کر زبردستی 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کی ویڈیوز دکھانے کی کوشش کی گئی، تاہم اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے دعویٰ کیا کہ ان افراد نے ویڈیوز دیکھنے سے انکار کر دیا۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی افواج نے ایک پرامن انسانی مشن کو زبردستی اور غیرقانونی طور پر نشانہ بنایا، حالانکہ اس مشن کا مقصد صرف بھوک اور محاصرے کا شکار غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا تھا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کا غزہ جانے والی امدادی کشتی پر چھاپہ، گریٹا تھنبرگ اور گیم آف تھرونز کے اداکار سمیت تمام کارکن گرفتار
اس واقعے کے بعد امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حکام کشتی میں سوار رضاکاروں کو ڈی پورٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
کشتی 6 جون کو اٹلی کے ساحلی علاقے سسلی سے روانہ ہوئی تھی اور اس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 11 رضاکار شامل تھے۔ اسرائیلی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ شو ختم ہو چکا ہے اور اب فریڈم فلوٹیلا کے شرکا کو واپس ان کے ملکوں کو بھیجا جا سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی مندوب فرانچسکا البانیز نے کہا ہے کہ فریڈم فلوٹیلا کا سفر شاید ختم ہو چکا ہو، لیکن اس کا مشن ابھی جاری ہے۔ ان کے مطابق بحیرہ روم کی ہر بندرگاہ سے غزہ کے لیے امداد اور یکجہتی کی علامت کے طور پر کشتیاں روانہ ہونی چاہئیں۔
فریڈم فلوٹیلا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے کشتی پر موجود افراد کا رابطہ منقطع کرنے کے لیے کمیونیکیشن جام کر دی اور لائیو نشریات بند کروا دیں۔ اس دوران، ڈرونز کے ذریعے ایسے سفید اسپرے کا استعمال کیا گیا جس سے کئی افراد کی جلد متاثر ہوئی۔
دوسری جانب، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی قبضے کو منظم ریاستی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آزادی کے پیغام کو خاموش نہیں کرسکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امدادی کشتی حماس ریما حسن غزہ فریڈم فلوٹیلا کولیشن گریٹا تھنبرگ میڈلین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امدادی کشتی گریٹا تھنبرگ میڈلین فریڈم فلوٹیلا کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں