پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لیے ن لیگ نے ٹکٹیں تقسیم کر دی ہیں۔

9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے فسادات میں ملوث اراکین کو انسدادِ دہشت گردی عدالتوں نے سزائیں سنائیں اور بعد ازاں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیے: 9 مئی سمیت دیگر کیسز میں قومی اسمبلی کے 8 ارکان کی نااہلی، عمر ایوب اپوزیشن لیڈر نہیں رہے

ان میں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت کئی رہنما شامل تھے۔ ان نااہلیوں کے باعث قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خالی نشستیں پیدا ہوئیں۔ ای سی پی نے ان خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا اعلان کیا، تاہم سیلاب اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث شیڈول میں تاخیر ہوئی۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ان ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ انتخابات دھاندلی زدہ ہوں گے، جبکہ مسلم لیگ (ن) انہیں ‘مومنٹم بلڈنگ’ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

اکتوبر 2025 کے آخری ہفتے میں مسلم لیگ (ن) نے آئندہ ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا۔ پارٹی کی جانب سے جاری کی گئی فہرست نے ن لیگ کی موروثی سیاست کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ یہ اعلان نہ صرف انتخابی حکمتِ عملی کا حصہ ہے بلکہ ایک بار پھر پارٹی کے اندر خاندانی روابط کو ’میرٹ‘ پر فوقیت دینے کا مظاہرہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: الیکشن کمیشن نے ممبر قومی اسمبلی عبداللطیف چترالی کو نااہل قرار دیدیا

نیشنل اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے متعدد حلقوں کے لیے جاری کیے گئے ٹکٹس میں سابق وزرا، مشیروں اور اراکین کے اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ داروں کو واضح برتری دی گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام پارٹی کی ‘ڈائناسٹی پالیٹکس’ کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ اور فیصل آباد جیسے حلقوں میں مزید خاندانی امیدواروں کو ٹکٹس دیے گئے ہیں، جو اس رجحان کو مزید واضح کرتے ہیں۔

ٹکٹوں کی تقسیم

ن لیگ کی مرکزی سیکریٹریٹ کی جانب سے 25–26 اکتوبر کو جاری کردہ فہرست میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے 11 قومی و صوبائی حلقوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان ضمنی انتخابات میں ن لیگ نے ان افراد کو ٹکٹس دیے جن کے بھائی یا قریبی رشتہ دار اس وقت وفاقی وزیر ہیں یا رہ چکے ہیں۔

این اے-96 فیصل آباد: بلال بدر چوہدری، وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری کے بھائی۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے رائے حیدر علی خان کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی، جو 9 مئی کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ این اے-104 فیصل آباد: راجہ دانیال ریاض، سابق وزیر راجہ ریاض کے بیٹے۔ پی پی-116 فیصل آباد: رانا احمد شہریار، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ کے داماد۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے محمد اسماعیل کی سزا کے بعد خالی ہوئی۔ این اے-66 وزیرآباد: بلال فاروق تارڑ، وفاقی وزیر قانون عطااللہ تارڑ کے بھائی۔ این اے-143 ساہیوال: محمد طفیل جٹ، اور پی پی-203 ساہیوال: محمد حنیف جٹ، دونوں بھائی ہیں۔ ن لیگ نے ان حلقوں میں مقامی طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے جٹ برادران کو ٹکٹس دیے۔ پی پی-73 سرگودھا: سلطان علی رانجھا، سابق صوبائی وزیر میاں مناظر رانجھا کے بیٹے۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے انصار اقبال کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی۔ این اے-18 ہری پور: بابر نواز خان، سابق وفاقی وزیر اعظم اختر نواز خان کے بیٹے۔ پی پی-98 فیصل آباد: آزاد علی تبسم، سابق ایم پی اے، جنہیں سیاسی خاندانی پس منظر کے باعث ٹکٹ دیا گیا۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے شاہد جاوید کی سزا کے بعد خالی ہوئی۔ این اے-185 ڈیرہ غازی خان: محمود قادر لغاری، لغاری قبیلے کے بااثر رہنما اور سابق ایم پی اے۔ ن لیگ نے قبیلائی حمایت کے پیشِ نظر لغاری خاندان کو ترجیح دی۔ پی پی-269 مظفرگڑھ: اقبال خان پتافی، مقامی سیاسی خاندان کے رکن، جو 2024 کے انتخابات میں بھی فعال رہے۔ پی پی-115 فیصل آباد: محمد طاہر پرویز، سابق رکنِ پنجاب اسمبلی، جنہیں خاندانی سیاسی نیٹ ورک کی بنیاد پر ٹکٹ دیا گیا۔ ن لیگ کی پالیسی اور جمہوری اصول

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی یہ پالیسی بظاہر پارٹی کو اندرونی طور پر مستحکم کر رہی ہے، لیکن جمہوری اصولوں کو کمزور کر رہی ہے۔ ’یوتھ ونگ‘ اور نئے چہروں کو نظرانداز کرتے ہوئے خاندانی امیدواروں کو ترجیح دینا، 2024 کے عام انتخابات کی طرح، ووٹرز میں مایوسی پیدا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹکٹوں کی تقسیم، تنازعے کو ختم کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کیا کررہی ہے؟

فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور مظفرگڑھ میں قبیلاتی خاندانوں کو شامل کرنا ن لیگ کی روایتی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں مقامی طاقت کے مراکز کو برقرار رکھنا ترجیح دی جاتی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی غیر موجودگی ن لیگ کو آسان فتح فراہم کر سکتی ہے، جو آئندہ عام انتخابات کے لیے راہ ہموار کرے گی۔

تاہم، یہ ضمنی انتخابات پاکستانی سیاست میں موروثیت اور نااہلیوں کے اثرات کی ایک جھلک ہیں، جہاں خاندانی اجارہ داری بدستور قائم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکشن کمیشن ٹکٹ ضمنی انتخابات ن لیگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ٹکٹ ضمنی انتخابات ن لیگ یہ نشست پی ٹی آئی کے کے بعد خالی ہوئی ضمنی انتخابات وفاقی وزیر کی نااہلی فیصل آباد مسلم لیگ ن لیگ نے ن لیگ کی کے لیے

پڑھیں:

رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔

درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان