پشاور:سابق صوبائی وزیرتیمور جھگڑا کا وزیراعلی کے پی کو خط، انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کامطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے وزیراعلی کے پی کو خط لکھ کر عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تیمور جھگڑا نے خط کی کاپی اسپیکر اسمبلی کو بھی بھجوادی، اسپیکر سے تحقیقات کے لیے ایوان کی خصوصی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا، خط میں کہا گیا کہ اگر بروقت انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کی جاتی تو ہری پور کے ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی نہ ہوتی، صوبے بھر میں متعدد نشستیں ہیں جن کے نتائج تبدیل کیے گئے ہیں، جن میں پشاور سے بڑی تعداد میں نشستوں میں غیر معمولی دھاندلی بھی شامل ہے۔
تیمور جھگڑا نے کہا کہ پختونخواہ کے رولز آف بزنس کے قاعدہ 237 کا استعمال کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی بنا کر تحقیقات کی جاسکتی ہے، مام پریذائیڈنگ افسران نے دستخط شدہ فارم 45 کے نتائج فراہم کیے، جیسے ہی ابتدائی نتائج پی ٹی آئی کے حق میں آئے، ان اسکرینوں کو بند کر دیا گیا۔
تیمور جھگڑا نے کہا کہ 5 ڈی آر او پشاور آفاق وزیر، سی سی پی او پشاور اشفاق انور، اور ایس ایس پی آپریشنز کاشف عباسی واقعات کے اہم گواہ ہیں، سی سی پی او نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو قیوم سٹیڈیم کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، اس وقت کے چیف سیکرٹری ندیم چوہدری اور آئی جی آف پولیس مسٹر اختر حیات گنڈا پور مبینہ طور پر کنٹرول رومز میں موجود تھے۔
اس کے علاوہ عام انتخابات میں پشاور سے تحریک انصاف کے امیدواروں نے بھی وزیراعلی کو مشرکہ خط لکھا، محمود جان، علی عظیم، ارباب جہاندار، ملک شہاب، تیمور جھگڑا، محمد عاصم، کامران بنگش، ساجد نواز اور حامد الحق نے خط لکھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انتخابات میں تیمور جھگڑا
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔