پیاز اور لہسن پر جھگڑا، شادی کے 11 سال بعد جوڑے کی طلاق
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
بھارت میں پیاز اور لہسن کے معاملے پر جھگڑے ہونے کے 11 سال بعد جوڑے کی طلاق ہوگئی۔شادی کے بعد جوڑے کو مختلف غذائی انتخاب پر کوئی مسئلہ نہیں تھا، بیوی نے مذہبی عمل کے طور پر پیاز اور لہسن سے سختی سے پرہیز کیا، تاہم شوہر اور ساس نے ان کا استعمال جاری رکھا، وقت گزرنے کے ساتھ ان کے درمیان کھانے کی تقسیم آہستہ آہستہ تنازع میں بدلنے لگی اور کھانا پکانے کے الگ سے انتظامات معمول بن گئے۔گھریلو نااتفاقی اتنی بڑھی کہ آخرکار بیوی نے بچے کے ساتھ گھر چھوڑ دیا۔2013 میں شوہر نے طلاق کے لئے احمد آباد فیملی کورٹ سے رجوع کیا اور دعویٰ کیا کہ بیوی کا کھانے کی عادت پر سمجھوتہ کرنے سے گریز کرنا ظلم کے مترادف ہے، فیملی کورٹ نے 2024 میں طلاق منظور کرتے ہوئے اسے کفالت ادا کرنے کی ہدایت کی۔اہلیہ کی جانب سے فیملی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے کے بعد کیس گجرات ہائی کورٹ میں چلا گیا، وکیل نے دلائل دیئے کہ شوہر نے مذہبی غذائی پابندیوں کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، جبکہ شوہر کا کہنا تھا کہ پیاز اور لہسن کا استعمال تنازعات کا مستقل ذریعہ بن گیا ہے۔سماعت کے دوران بیوی نے بالآخر کہا کہ وہ اب طلاق کی مخالفت نہیں کرتی، شوہر، بدلے میں، عدالت میں اقساط میں ادا نہ کی گئی رقم جمع کرانے پر راضی ہوگیا، اس مرحلے پر باہمی رضامندی کے ساتھ ہائی کورٹ نے بیوی کی درخواست کو خارج کر دیا اور طلاق کو برقرار رکھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔