ویب ڈیسک: الیکشن کمیشن میں وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف الیکشن عملے کو دھمکانے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
 چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی، سہیل آفریدی اور شہر ناز عمر ایوب کے وکلاء الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، درخواست گزار بابر نواز خان کے وکیل بھی الیکشن کمیشن میں موجود تھے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے کمیشن کو بتایا کہ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری کے سسر وفات پا گئے ہیں، میں سہیل آفریدی کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کر رہا ہوں۔

پنجاب نے تمام صوبوں سے زیادہ 16.

5 ملین ایکڑ گندم کی ریکارڈ بوائی کر لی

ممبر کے پی کے نے سوال کیا کہ آپ سرکاری حیثیت میں کیسے ایک شخص کی نجی حیثیت میں نمائندگی کر سکتے ہیں، یہ ایک شخص کا ذاتی کیس ہے ریاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ میں صرف علی بخاری کی جانب سے التواء کی درخواست کر رہا ہوں۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ کی تو صوبے میں ضرورت ہے یہاں کیا کر رہے ہیں، ممبر کے ہپی کے نے کہا چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کہتے رہتے ہیں کہ ایڈووکیٹ جنرل تو نظر ہی نہیں آتا۔

ای سی سی کا پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز اور او ایم سیز مارجنز میں 5 تا 10 فیصد اضافہ منظور

سماعت کے دوران شہر ناز عمر ایوب کے وکیل نے تحریری جواب جمع کروا دیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی۔

شہر ناز عمر ایوب نے الیکشن کمیشن میں فارم 47 فراہم نہ کرنے کی شکایت کی ہے اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

مرتضیٰ جاوید عباسی کیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس:

دریں اثنا الیکشن کمیشن میں مرتضیٰ جاوید عباسی کے خلاف ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی بھی سماعت ہوئی، جاوید عباسی اور ان کے وکیل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ 

پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی اور بانی پر پابندی کی قرارداد منظورکرلی

مرتضیٰ جاوید عباسی کے وکیل نے کمیشن میں موقف اختیار کیا کہ انکے موکل نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی، الیکشن کمیشن نے کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

دریں اثنا پی پی 269 میں دوبارہ گنتی کا معاملے پر درخواست گزار آزاد امیدوار اقبال خان کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی،  درخواست گزار الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔
 چیف الیکشن کمشنر نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کے وکیل کدھر ہیں؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ میرا وکیل لاہور میں موجود ہے اس لیے ذاتی نوعیت میں پیش ہوا ہوں، کمیشن نے کیس کی سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی۔

کسٹمز کی کارروائی ؛ کروڑوں کی اسمگل شدہ اشیا ضبط

واضح رہے کہ پی پی 269 میں پیپلزپارٹی کے امیدوار میاں علمدار عباس قریشی ضمنی انتخابات جیتے ہیں۔

امیدوار حلقہ پی پی مظفر گڑھ 269 اقبال خان پتافی نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میں نے پی پی 269 کا الیکشن لڑا جس میں 46407 ووٹ حاصل کیے، پی پی 269 کا الیکشن ہمیشہ سے متنازع رہا ہے مختلف فورمز سے اسٹے لیا گیا، پہلے بھی جو امیدوار جیتے تھے وہ میری ری کاؤنٹنگ کی درخواست پر استعفیٰ دے گئے اور اب پھر انتخاب ہوا۔
 
انہوں نے الزام لگایا کہ میرے مخالف امیدوار کے رشتہ داروں کو الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا، جس عملے نے الیکشن ڈیوٹی کے لیے ٹریننگ کی تھی اسے تعینات نہیں کیا گیا جو عملہ تعینات ہوا وہ حلقے کے ہی رہنے والے تھے، مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی تعداد سے کم بیلٹ پیپر بھیجے گئے۔

آزادکشمیر کی بیوروکریسی میں اہم تبادلے

Ansa Awais Content Writer

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: لاہور الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر ایڈووکیٹ جنرل درخواست گزار ضابطہ اخلاق جاوید عباسی سہیل آفریدی کی درخواست خلاف ورزی کے وکیل پی پی 269 کیس کی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن