کپڑوں کی خریداری ‘ملزم کی والدہ کا پولیس ہراسانی کیخلاف تحفظ کی استدعا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں پولیس افسر کے خلاف خریداری کی عدم ادائیگی پر دھمکیوں اور منشیات کا جعلی مقدمہ درج کرانے کے الزام سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جہاں ملزم کی والدہ نے پولیس ہراسانی کے خلاف تحفظ کی استدعا کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس ایچ او پیرآباد انیس شیخ نے ان کے بیٹے ضیا الرحمان سے 19 لاکھ روپے مالیت کے کپڑے خریدے تھے بعد ازاں ادائیگی کے لیے جو پے آرڈر دیا وہ بینک نے جعلی قرار دیا۔ وکیل کے مطابق رقم کا تقاضہ کرنے پر ایس ایچ او نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور اسی رنجش پر پولیس نے ضیا الرحمان کے خلاف منشیات برآمدگی کا جھوٹا مقدمہ قائم کردیا۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس حکام کو ایس ایچ او انیس شیخ کے خلاف درج درخواست پر کارروائی کا حکم دیا جائے جبکہ درخواست گزار اور اہل خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ مزید استدعا کی گئی کہ عدالت پولیس کو ہدایت دے کہ وہ درخواست گزار کے اہل خانہ کے خلاف مزید کوئی مقدمہ درج نہ کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درخواست گزار کے خلاف
پڑھیں:
کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔