کپڑوں کی خریداری ‘ملزم کی والدہ کا پولیس ہراسانی کیخلاف تحفظ کی استدعا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں پولیس افسر کے خلاف خریداری کی عدم ادائیگی پر دھمکیوں اور منشیات کا جعلی مقدمہ درج کرانے کے الزام سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جہاں ملزم کی والدہ نے پولیس ہراسانی کے خلاف تحفظ کی استدعا کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس ایچ او پیرآباد انیس شیخ نے ان کے بیٹے ضیا الرحمان سے 19 لاکھ روپے مالیت کے کپڑے خریدے تھے بعد ازاں ادائیگی کے لیے جو پے آرڈر دیا وہ بینک نے جعلی قرار دیا۔ وکیل کے مطابق رقم کا تقاضہ کرنے پر ایس ایچ او نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور اسی رنجش پر پولیس نے ضیا الرحمان کے خلاف منشیات برآمدگی کا جھوٹا مقدمہ قائم کردیا۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس حکام کو ایس ایچ او انیس شیخ کے خلاف درج درخواست پر کارروائی کا حکم دیا جائے جبکہ درخواست گزار اور اہل خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ مزید استدعا کی گئی کہ عدالت پولیس کو ہدایت دے کہ وہ درخواست گزار کے اہل خانہ کے خلاف مزید کوئی مقدمہ درج نہ کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درخواست گزار کے خلاف
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
— فائل فوٹوکراچی کے علاقے کیماڑی کے قریب جھاڑیوں سے ملنے والی 7 سالہ بچی کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق پوسٹ مارٹم میں بچی سے زیادتی کے شواہد ملے ہیں، بچی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا ہے کہ موت کی وجہ جاننے کے لیے مختلف اعضاء کے نمونے لیب بھجوا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بابا بھٹ جزیرے سے اغواء 7 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، ملزم مقابلے میں ہلاکپولیس کے مطابق بچی کے قتل میں ملوث مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں گزشتہ روز مارا گیا۔
پولیس نے بتایا ہے کہ بچی کی لاش ملنے کے بعد حاصل کی گئی سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزم کو دیکھا گیا تھا۔
سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزم کو بورا اٹھائے جیٹی سے آتے اور جاتے دیکھا گیا تھا۔
اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اور شخص بھی واقعے میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔