گوجرانوالہ: فرح گوگی، شوہر اور دیگر افراد کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوجرانوالہ:شہر میں مبینہ زمین فراڈ کے ایک بڑے معاملے میں پولیس نے فرحت شہزادی عرف فرح گوگی، ان کے شوہر احسن جمیل گجر اور متعدد دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے، جس میں اہم سیاسی و سماجی شخصیات کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تھانہ صدر میں درج ایف آئی آر میں مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی وزیر چوہدری اقبال گجر کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو فرح گوگی کے سسر اور احسن جمیل کے والد ہیں۔ مقدمے میں ان کے خاندان کے دیگر افراد، جن میں بیٹے، بھائی اور بھتیجے شامل ہیں، کے علاوہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے منیجر اور بعض ملازمین کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق متعلقہ سوسائٹی سن 2005 میں قائم کی گئی تھی اور بعد ازاں پی ٹی آئی دور حکومت میں گوجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منظوری حاصل کی گئی۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ ملزمان نے سوسائٹی میں پارک، اسکول اور قبرستان کے لیے مختص اراضی کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا۔
مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے سرکاری زمین کی فروخت کے لیے جعلی دستاویزات تیار کیں اور خریداروں کو دھوکا دیا، جس سے نہ صرف شہریوں کو مالی نقصان پہنچا بلکہ سرکاری ریکارڈ میں بھی بے ضابطگیاں پیدا ہوئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور تمام نامزد افراد کے کردار کا جائزہ لے کر شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی، اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملزمان کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنا اولین ترجیح ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا گیا ہے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔