پنجاب اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم ،PTI پر پابندی سمیت متعدد قراردادیں منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
لاہور: (دنیا نیوز) پنجاب اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم، پی ٹی آئی پر پابندی سمیت متعدد قراردادیں منظور کر لی گئیں۔پنجاب اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے پیش کی گئی جس کے مطابق یہ ایوان 27 ویں آئینی ترمیم کی مکمل حمایت کرتا ہے، یہ ایوان سمجھتا ہے کہ یہ ترمیم ادارہ جاتی استحکام اور شفافیت کی ضامن ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق یہ ایوان اس امر پر زور دیتا ہے کہ لوکل گورنمنٹ کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ کوئی بھی اس پر شب خون نہ مار سکے، یہ ایوان آئینی عدالت کے قیام کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتا ہے، ترمیم سے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کو تقویت ملے گی۔
متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان تسلیم کرتا ہے کہ صوبائی خودمختاری اور وفاقی توازن مزید مضبوط ہوگا، الیکشن کمیشن کو مزید خودمختار اور مؤثر بنایا جا رہا ہے، یہ ایوان اعتراف کرتا ہے کہ یہ ترمیم انقلاب نہیں بلکہ ادارہ جاتی ارتقا ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق یہ ایوان وزیرِ اعظم پاکستان کو آئینی اصلاحات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، یہ ایوان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم پاکستان کے اداروں کے استحکام کا سنگِ میل ہے۔
پاک افواج کیخلاف بیان بازی کرنیوالی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کی قرارداد
پاک افواج کے خلاف بیان بازی کرنے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور کر لی گئی، قرارداد مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی طاہر پرویز نے ایوان میں پیش کی۔
قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان کی سالمیت استحکام کے خلاف پاکستان کا ہر محاذ پر حفاظت کرنے والے اداروں جنہوں نے بھارت جیسے پانچ گنا بڑے دشمن ملک کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔
متن کے مطابق ان کے خلاف بیان بازی کرنے انتشار پھیلانے اور پاکستان کے مخالف دشمن ملک کی آلہ کار پارٹی اور اس کے بانی و لیڈر پر پابندی لگائی جائے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ جو لیڈران خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی پارٹی سے ہو ان کے خلاف ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
متن کے مطابق پاکستان کے استحکام حفاظت کے لیے کام کرنے والے اداروں کے نوجوانوں اور ان کے سربراہان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی قرارداد منظور
بانی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور ہو گئی، قرارداد مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی طاہر پرویز نے ایوان میں پیش کی۔
قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان کی سالمیت استحکام کے خلاف پاکستان کا ہر محاذ پر حفاظت کرنے والے اداروں جنہوں نے بھارت جیسے پانچ گنا بڑے دشمن ملک کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔
متن میں کہا گیا کہ ملک کے خلاف بیان بازی کرنے انتشار پھیلانے اور پاکستان کے مخالف دشمن ملک کی آلہ کار پارٹی اور اس کے بانی و لیڈر پر پابندی لگائی جائے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ جو لیڈران خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی پارٹی سے ہو ان کے خلاف ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
متن کے مطابق پاکستان کے استحکام حفاظت کے لیے کام کرنے والے اداروں کے نوجوانوں اور ان کے سربراہان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ملک کے خلاف بیان بازی کرنے انتشار پھیلانے اور پاکستان کے مخالف دشمن ملک کی آلہ کار پارٹی اور اس کے بانی و لیڈر پر پابندی لگائی جائے۔
متن میں کہا گیا کہ جو لیڈران خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی پارٹی سے ہو ان کے خلاف ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
قرارداد کے مطابق پاکستان کے استحکام حفاظت کےلیے کام کرنے والے اداروں کے نوجوانوں اور ان کے سربراہان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پر پابندی لگانے کی قرارداد قرارداد کے متن کے مطابق کے خلاف بیان بازی کرنے متن کے مطابق پاکستان تحسین پیش کرتا ہے کرنے والے اداروں ویں ا ئینی ترمیم میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی پاکستان کے کے استحکام یہ ایوان ا ان کے خلاف اداروں کے دشمن ملک اور ان
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔