کراچی، مسلسل غیر حاضر 150 سے زائد اساتذہ برطرف
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
محکمہ تعلیم سندھ نے مسلسل غیرحاضری پر 150 سے زائد اساتذہ کو برطرف کردیا۔
کراچی میں محکمہ تعلیم میں مسلسل غیرحاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی جاری ہے، 2022 سے 2024 تک غیرحاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کی گئی۔
محکمۂ تعلیم سندھ میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا 93 ہزار سے زائد پرائمری اسکول ٹیچرز اور جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز کی بھرتیوں کا عمل مکمل کر لیا گیا۔
ڈائریکٹر اسکولز کراچی ارشد بیگ کا کہنا ہے کہ غیرحاضری پر 2 ہزار نئے اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔ جوابات سننے کے بعد 150 سے زائد اساتذہ کو برطرف کیا گیا۔
ڈائریکٹر اسکولز کراچی کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں پرانے اساتذہ کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سے زائد اساتذہ اساتذہ کو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔