اسلام ٹائمز: اسکول مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ادارے کو محض کاروبار نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھیں۔ بہترین، محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ اساتذہ کا کردار صرف پڑھانا نہیں بلکہ کردار سازی اور شخصیت سازی بھی ہے۔ بچے کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور اپنی رائے کے اظہار کا موقع دینا ہی اصل تعلیم ہے۔ والدین، اساتذہ اور انتظامیہ کے مضبوط روابط ہی کسی کامیاب تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ تحریر: آغا زمانی

حسین آباد پبلک اسکول سکردو میں سالانہ امتحانات 2025ء کے نتائج کے باوقار اعلان اور اسپورٹس ویک 2025ء میں بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات میں انعامات کی تقسیم کی پروقار تقریب نہایت شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں طلبہ و طالبات کی علمی و ہم نصابی کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ اسکول انتظامیہ نے نہایت سلیقے اور خوبصورتی کے ساتھ رنگارنگ پروگرام ترتیب دیا، جس میں بچوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا دلکش اظہار کیا۔ تقریب کا آغاز طلبہ کی لبوں سے سجی حمد، نعت اور منقبت کی روح پرور پیشکش سے ہوا۔ بعد ازاں طالبات نے اردو اور انگریزی میں مدلل، بامقصد اور پراعتماد تقاریر پیش کیں، جنہیں سامعین نے بے حد پسند کیا۔ پروگرام کے دوران بچوں کی تربیت، تخلیقی صلاحیتوں اور تعلیمی استعداد کار کو نمایاں کرنے والے مختلف سلسلے بھی شامل تھے، جو ادارے کے اعلیٰ تدریسی معیار کا منہ بولتا ثبوت تھے۔

مہمانانِ خصوصی ڈپٹی کنٹرولر ایگزامینیشن یونیورسٹی آف بلتستان جناب وزیر آفتاب، صدرِ محفل محکمہ تعلیم کے سابق ایماندار آفیسر و استاد نذیر تاج صاحب اور پرنسپل حسین آباد پبلک اسکول برادر وزیر اظہر مہدی نے اپنے خطابات میں کہا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، اس لیے بچوں کو محض پوزیشنز کی دوڑ تک محدود کرنا دانش مندی نہیں۔ ہر بچہ اپنی الگ فطری خصوصیات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف نمبرات کا حصول نہیں بلکہ شعور، کردار، اخلاق، خود اعتمادی اور عملی زندگی کے لیے تیاری پیدا کرنا ہے۔ اسکول کا دور بچے کی زندگی کا بنیادی اور فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے، اس لیے والدین اور اساتذہ دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی صلاحیتوں کی پہچان کرکے انہیں درست سمت عطا کریں۔

تقریب کے اختتام پر سال بھر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات میں انعامات، اعزازی میڈلز اور شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ کھیلوں میں کامیاب ٹیموں کی بھی دل کھول کر حوصلہ افزائی کی گئی، جس سے ان میں ٹیم ورک، اعتماد اور مثبت مسابقت کا جذبہ مزید پروان چڑھا۔ حسین آباد پبلک اسکول کی سب سے نمایاں خوبی اس کا دوستانہ، پراعتماد اور خوف سے پاک ماحول ہے، جہاں بچے بلا جھجھک سوال کرتے ہیں اور اساتذہ محبت و توجہ سے رہنمائی کرتے ہیں۔ برادر وزیر اظہر مہدی اپنی شفقت، فوری تعاون اور والدین کے ساتھ مسلسل رابطے کے باعث ایک بہترین معلم اور شفیق رہنماء کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اسکول مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ادارے کو محض کاروبار نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھیں۔ بہترین، محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ اساتذہ کا کردار صرف پڑھانا نہیں بلکہ کردار سازی اور شخصیت سازی بھی ہے۔ بچے کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور اپنی رائے کے اظہار کا موقع دینا ہی اصل تعلیم ہے۔ والدین، اساتذہ اور انتظامیہ کے مضبوط روابط ہی کسی کامیاب تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ آخر میں میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ برادر وزیر اظہر مہدی اور ان کی پوری ٹیم کے اخلاص، محنت اور خدمت میں مزید برکت عطا فرمائے اور تمام اساتذہ کو اپنے فرائض بہترین انداز میں ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حسین آباد پبلک اسکول نہیں بلکہ کے ساتھ اور ان

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل