تھائی لینڈ کی حکومت نے مقامی ملکیتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروبار کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ہزاروں کمپنیوں میں مقامی افراد کو محض کاغذی مالکان ظاہر کر کے غیر ملکیوں نے کاروباری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی۔ تازہ کارروائیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان میں تشویش بڑھ گئی ہے کہ ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق جنوبی صوبے کرابی میں ایک کمپنی سرکاری ریکارڈ میں نیل سیلون (ناخنوں کی آرائش کے مرکز) کے طور پر رجسٹرڈ تھی، تاہم تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر اسے ایک اسرائیلی خاتون بالغ مواد پر مبنی آن لائن کاروبار چلانے کے لیے استعمال کر رہی تھی، جو سبسکرپشن ویب سائٹ اونلی فینز کے ذریعے سرگرم تھا۔

یہ کمپنی تقریباً 500 ایسی کمپنیوں میں شامل تھی جنہیں ایک ہی اکاؤنٹنگ فرم نے رجسٹر کرایا تھا۔ ان کمپنیوں میں بیوٹی سیلونز سے لے کر بھنگ (کینابس) کی فارمز تک مختلف کاروبار شامل تھے۔

تھائی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام کمپنیوں کا تعلق غیر ملکی افراد سے تھا جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے مقامی تھائی شہریوں کو اکثریتی مالک ظاہر کیا، حالانکہ ان افراد کا کاروبار میں عملی کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔

تھائی لینڈ کے فارن بزنس ایکٹ کے تحت غیر ملکی شہری عام طور پر کسی مقامی کمپنی میں 49 فیصد سے زیادہ حصص کے مالک نہیں بن سکتے۔ اس پابندی سے بچنے کے لیے بعض غیر ملکی کاروباری افراد مقامی شہریوں کو رقم دے کر ایسے دستاویزات تیار کراتے ہیں جن میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ کمپنی کے کم از کم 51 فیصد حصص تھائی شہریوں کی ملکیت ہیں۔

برسوں تک اس طرزِ عمل کو نظر انداز کرنے کے بعد اب حکام نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقامی شراکت دار کے طور پر درج افراد اپنی حقیقی سرمایہ کاری اور ملکیت کے شواہد پیش کریں۔

حکومت نے سیاحتی علاقوں میں وسیع پیمانے پر معائنے شروع کیے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مختلف سرکاری ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی روابط رکھنے والی کمپنیوں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق انہیں روزانہ بڑی تعداد میں ایسے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان کی جانب سے رابطے موصول ہو رہے ہیں جو خدشہ رکھتے ہیں کہ اگر وہ غیر قانونی نامزد مالکان (نومنی) کے نظام میں ملوث پائے گئے تو ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

قانونی فرم لائرز فار ایکسپیٹس تھائی لینڈ کے شعبۂ بین الاقوامی امور کے جنرل منیجر برائن ریمزڈن کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو اپنی سرمایہ کاری ضائع ہونے اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کا خوف لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر افراد یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا یہ طریقہ غیر قانونی ہے، لیکن ان کے وکلا نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔

ریمزڈن کے مطابق ان کی فرم کو روزانہ 100 سے زائد فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں لوگ قانونی راستہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی عملی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں تو یہ خود ایک خطرے کی علامت ہے۔

وزیراعظم بھی متحرک

تھائی وزیر اعظم انوتن چارنویراکول بھی جعلی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔

گزشتہ ماہ جنوبی تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی مقامات کے دورے کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ غیر قانونی کاروباروں اور شیل کمپنیوں کے ذریعے سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کے تناظر میں اس معاملے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی شخص سینکڑوں کمپنیوں میں حصص رکھتا ہو تو اس کا مقصد دراصل کمپنیوں کی خرید و فروخت اور غیر ملکیوں کو کاروبار کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوتا ہے، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔

سیاحتی جزائر خصوصی نگرانی میں

تھائی وزارت تجارت کے مطابق گزشتہ ماہ کیے گئے آڈٹ میں معلوم ہوا کہ مشہور سیاحتی جزائر کوہ ساموئی اور کوہ پھانگان میں رجسٹرڈ 16 ہزار 800 قانونی اداروں میں سے تقریباً 70 فیصد میں غیر ملکیوں کی شراکت موجود ہے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ غیر ملکی روابط کا مطلب لازمی طور پر قانون شکنی نہیں۔

غیر ملکی مشتبہ افراد گرفتار

گزشتہ ہفتے حکام نے اعلان کیا کہ صوبوں فوکٹ اور سورات تھانی میں جعلی رجسٹریشن کے ذریعے قائم کمپنیوں کی تحقیقات کے بعد 28 غیر ملکی مشتبہ افراد کے مقدمات استغاثہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل کوہ پھانگان میں حکام تقریباً 15 کروڑ بھات (45 لاکھ ڈالر) مالیت کی 30 اراضیوں کو ضبط کر چکے ہیں جبکہ غیر قانونی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے دو تھائی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

مقامی کاروباری حلقوں کی شکایات

تھائی کاروباری برادری کے بعض حلقے طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ان کے لیے مسابقت مشکل بنا رہے ہیں۔

ایک معروف تھائی کاروباری شخصیت، جنہوں نے صرف اپنے عرف تھونگ سے شناخت ظاہر کرنے کی اجازت دی، کا کہنا تھا کہ بعض غیر ملکی سرمایہ کار ولاز خرید کر انہیں مختصر مدتی کرایے کی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے بعد قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ مقامی افراد ان جائیدادوں تک رسائی نہیں رکھ پاتے۔

ان کے مطابق مکمل ملکیت غیر ملکیوں کے پاس چلے جانے سے مقامی آبادی معاشی طور پر پیچھے رہ جاتی ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے۔

سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالات

کریک ڈاؤن کے نتیجے میں یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ بعض جائز غیر ملکی سرمایہ کار نادانستہ طور پر قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے لیے تھائی لینڈ کی ساکھ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ملک میں کنڈومینیم ملکیت کے قوانین کے تحت کسی بھی رہائشی منصوبے کا کم از کم 51 فیصد حصہ تھائی شہریوں کے لیے مختص ہونا ضروری ہے، تاہم بنکاک، فوکٹ اور پٹایا جیسے علاقوں میں بعض اوقات پورے اپارٹمنٹ بلاکس غیر ملکی خریداروں کو فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

آن لائن فورمز پر متعدد غیر ملکی افراد نے ایسے تجربات بیان کیے ہیں جن میں جائیداد خریدنے یا لیز پر لینے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ متعلقہ یونٹ قانونی طور پر تھائی شہریوں کے لیے مختص تھا اور وہ اس کے حقیقی مالک نہیں بن سکتے تھے۔

پٹایا میں مقیم غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکس کے ماہر وکٹر وونگ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت شدید احتیاط اور ذہنی دباؤ کی کیفیت میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قوانین کے نفاذ کو تو سخت کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی قانونی سرمایہ کاری کے نئے اور واضح راستے فراہم نہیں کیے جا رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب سرمایہ کار غیر قانونی شارٹ کٹس کے بجائے ایسے پائیدار اور قانونی ڈھانچوں کی تلاش میں ہیں جن کے ذریعے وہ اعتماد کے ساتھ تھائی لینڈ میں کاروبار جاری رکھ سکیں۔

تاہم بعض غیر ملکی رہائشی اس کریک ڈاؤن پر تنقید کو درست نہیں سمجھتے۔ برائن ریمزڈن کے مطابق اس صورتحال کا ذمہ دار تھائی لینڈ نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جنہوں نے جانتے بوجھتے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طریقے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ جو لوگ قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرتے، مسئلہ دراصل وہی ہیں۔

ان کے بقول یہ کریک ڈاؤن طویل مدت میں تھائی لینڈ کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تھائی لینڈ غیرملکی سرمایہ کاری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تھائی لینڈ غیرملکی سرمایہ کاری غیر ملکی سرمایہ کار ان کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ کے تھائی شہریوں سرمایہ کاری کمپنیوں میں غیر ملکیوں کریک ڈاؤن کے ذریعے کے مطابق کے خلاف ہیں جن کے لیے کے بعد کہ غیر ہیں کہ کیے جا

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار