WE News:
2026-07-24@03:34:44 GMT

پاک امریکا پارٹنر شپ، نئے امکانات دھندلا نہ جائیں

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

سمیر پال کپور یو ایس اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ اور سنٹرل ایشیا ہیں۔ 11 فروری کو انہوں نے یو ایس کانگریس کمیٹی کو بریف کیا ہے۔ اس بریفنگ میں پاکستان کو اہم ریجنل پارٹنر بتایا گیا ہے، ایسا پارٹنر جس کے ساتھ امریکا اب سیکیورٹی تعلقات سے آگے جاتے ہوئے ٹریڈ اور اکنامک تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔

پاکستان کے منرل ریسورسز کو ڈویلپ کرنے کے لیے  امریکا پارٹنر شپ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو فنڈنگ اور تکنیکی مہارت کے چیلنج درپیش ہیں۔ امریکی بینک، مالیاتی ادارے فنڈنگ فراہم کر سکتے ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر تکنیکی مہارت کے ساتھ منرل مائننگ پراسسنگ میں مدد کر سکتا ہے۔

کرٹیکل منرل کے ذخائر، مائننگ اور سپلائی پر چین کا کنٹرول 60 سے 90 فیصد تک ہے۔ اس ایک شعبے میں چین کی بجائے امریکا پاکستان کے لیے زیادہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ چین کے ساتھ تعاون کیا بھی جائے تو اس کو فوری طور پر منرل مائننگ اور پراسسنگ کی ضرورت ہی نہیں۔ لیز لے کر بھی وہ مائننگ سائٹ کو لمبے عرصے تک بند رکھے گا۔ امریکا کی ضرورت فوری نوعیت کی ہے۔ فوڈ اور انرجی وہ دوسرا اہم شعبہ ہے جس کے لیے امریکی تعاون پاکستان کو دستیاب ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور نے کر دکھایا، اب پی پی کراچی میں رونق لگا کر دکھائے

دہشتگردی کے حوالے سے پاک امریکا قریبی تعاون ضرور موجود ہے لیکن  امریکی فوکس پاکستان سے مختلف ہے۔ خطے میں موجود القاعدہ اور داعش جیسے گلوبل ایجنڈا رکھنے والے گروپوں کو امریکی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے امریکی دلچسپی بہت محدود نوعیت کی ہے۔ البتہ بلوچستان کی علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کے خلاف امریکی زیادہ تعاون کے لیے آمادہ  ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ منرل سیکٹر اور لانگ ٹرم امریکی انٹرسٹ کو بلوچ علیحدگی پسندوں سے درپیش براہراست خطرہ ہے۔

سمیر کپور جب کانگریس کمیٹی کے سامنے امریکی پالیسی بیان کر رہے تھے تو ان کے ڈپٹی  جان مارک پوم روئے اسلام آباد پہنچے ہوئے تھے اور پاکستان کو اپنے تعاون کا یقین دلا رہے تھے۔ پاکستان میں سرگرم مسلح دہشتگرد تنظیموں کے ہاتھ افغانستان میں چھوڑا ہوا امریکی اسلحہ آ چکا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان کو دہشتگردی کی ایک بڑی لہر کا سامنا ہے۔ ان امریکی ہتھیاروں کو غیر موثر کرنے کے لیے مدد معاونت بھی امریکا سے ہی مل سکتی ہے۔

امریکا نے پاکستان کو ساؤتھ ایشیا اور سنٹرل ایشیا میں اپنا اہم پارٹنر بنا لیا ہے۔ یہ نئی امریکی انٹرسٹ اکنامک تعاون اور کریٹکل منرل کے گرد گھومتی ہے۔ اسٹریٹجک حوالے سے پاکستان کو سنٹرل ایشیا میں بھی  امریکی اپنا اہم پارٹنر مان رہے ہیں۔ وہ سنٹرل ایشیا جسے روس اپنا بیک یارڈ سمجھتا ہے۔ کریٹکل منرل کے لیے امریکا یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں میں دلچسپی دکھا رہا ہے۔  یہ دیکھتے ہوئے پاکستان کی اہمیت اور رول کا انداز کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو اپنی معیشت ٹھیک کرنے کے لیے بڑی پارٹنر شپ، سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس کے لیے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صورتحال بہتر بنانی ضروری ہے۔ دونوں جگہ میں مسائل کو ڈیل کرنے کی پالیسی مختلف دکھائی دیتی ہے۔ حال ہی میں حکومت مخالفت میں ریاست کی مخالفت تک پہنچ جانے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر کو انگیج کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

2 فروری کو سہیل آفریدی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں شہباز شریف نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلا کر اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تعلقات ٹھیک کریں۔ مقصد یہی سمجھانا تھا کہ یہ تعلق ٹھیک ہوگا تو آپ کے لیڈر کو بھی ریلیف ملنا شروع ہو جائے گا۔ 4 فروری کو ایپکش کمیٹی اور اس کے بعد 10 فروری کو ایک اعلی سطحی فالو اپ میٹنگ ہوئی جس میں اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی تھی۔ ان بیک ٹو بیک میٹنگ کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ٹون بدلی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

یہ امید ہو چلی تھی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ تناؤ میں کمی لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سیاسی ٹمریچر کم ہو گا تو دہشتگردی سے نپٹنا آسان ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی لیڈر کی اسپتال منتقلی کی باتیں زور پکڑ گئی تھیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کے اندر سے ہی کسی احتجاج کے بغیر ریلیف کو کمزوری سے تعبیر کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا گیا۔ کپتان کی صحت کے حوالے سے بہتری کی رپورٹ سامنے آ گئیں اور احتجاج کا اونٹ گھوم پھر کر وہیں پہنچ گیا جدھر سے شروع ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

سنٹرل ایشیا اور ساؤتھ ایشیا میں پاکستان کو پارٹنر بنانے کی بات امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کانگریسی کمیٹی میں کی ہے۔ خود امریکی صدر بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت ، ایران پر پاکستان کی مشاورت اور کردار کی تعریف کر چکے ہیں۔ ہمیں مڈل ایسٹ میں بھی اوپننگ مل سکتی ہے۔ ہم اپنے گھر کو ٹھیک نہ کر سکے اور ورکنگ ریلیشن بنا اور دکھا نہ سکے تو لانگ ٹرم سچویشن پر تو شاید خاص اثر نہ پڑے۔ ہم اس طرح کے فوائد نہیں حاصل کر سکیں گے جو کیے جا سکتے ہیں۔ ہاتھ آتے امکانات دھندلاتے دکھائی دیے تو بات مزید ہارڈ اسٹیٹ کی طرف جائے گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

اسٹیبلشمنٹ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ پاک امریکا تعلقات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ پاک امریکا تعلقات سنٹرل ایشیا پاکستان کو حوالے سے فروری کو کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی