پاک امریکا پارٹنر شپ، نئے امکانات دھندلا نہ جائیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
سمیر پال کپور یو ایس اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ اور سنٹرل ایشیا ہیں۔ 11 فروری کو انہوں نے یو ایس کانگریس کمیٹی کو بریف کیا ہے۔ اس بریفنگ میں پاکستان کو اہم ریجنل پارٹنر بتایا گیا ہے، ایسا پارٹنر جس کے ساتھ امریکا اب سیکیورٹی تعلقات سے آگے جاتے ہوئے ٹریڈ اور اکنامک تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔
پاکستان کے منرل ریسورسز کو ڈویلپ کرنے کے لیے امریکا پارٹنر شپ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو فنڈنگ اور تکنیکی مہارت کے چیلنج درپیش ہیں۔ امریکی بینک، مالیاتی ادارے فنڈنگ فراہم کر سکتے ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر تکنیکی مہارت کے ساتھ منرل مائننگ پراسسنگ میں مدد کر سکتا ہے۔
کرٹیکل منرل کے ذخائر، مائننگ اور سپلائی پر چین کا کنٹرول 60 سے 90 فیصد تک ہے۔ اس ایک شعبے میں چین کی بجائے امریکا پاکستان کے لیے زیادہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ چین کے ساتھ تعاون کیا بھی جائے تو اس کو فوری طور پر منرل مائننگ اور پراسسنگ کی ضرورت ہی نہیں۔ لیز لے کر بھی وہ مائننگ سائٹ کو لمبے عرصے تک بند رکھے گا۔ امریکا کی ضرورت فوری نوعیت کی ہے۔ فوڈ اور انرجی وہ دوسرا اہم شعبہ ہے جس کے لیے امریکی تعاون پاکستان کو دستیاب ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور نے کر دکھایا، اب پی پی کراچی میں رونق لگا کر دکھائے
دہشتگردی کے حوالے سے پاک امریکا قریبی تعاون ضرور موجود ہے لیکن امریکی فوکس پاکستان سے مختلف ہے۔ خطے میں موجود القاعدہ اور داعش جیسے گلوبل ایجنڈا رکھنے والے گروپوں کو امریکی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے امریکی دلچسپی بہت محدود نوعیت کی ہے۔ البتہ بلوچستان کی علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کے خلاف امریکی زیادہ تعاون کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ منرل سیکٹر اور لانگ ٹرم امریکی انٹرسٹ کو بلوچ علیحدگی پسندوں سے درپیش براہراست خطرہ ہے۔
سمیر کپور جب کانگریس کمیٹی کے سامنے امریکی پالیسی بیان کر رہے تھے تو ان کے ڈپٹی جان مارک پوم روئے اسلام آباد پہنچے ہوئے تھے اور پاکستان کو اپنے تعاون کا یقین دلا رہے تھے۔ پاکستان میں سرگرم مسلح دہشتگرد تنظیموں کے ہاتھ افغانستان میں چھوڑا ہوا امریکی اسلحہ آ چکا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان کو دہشتگردی کی ایک بڑی لہر کا سامنا ہے۔ ان امریکی ہتھیاروں کو غیر موثر کرنے کے لیے مدد معاونت بھی امریکا سے ہی مل سکتی ہے۔
امریکا نے پاکستان کو ساؤتھ ایشیا اور سنٹرل ایشیا میں اپنا اہم پارٹنر بنا لیا ہے۔ یہ نئی امریکی انٹرسٹ اکنامک تعاون اور کریٹکل منرل کے گرد گھومتی ہے۔ اسٹریٹجک حوالے سے پاکستان کو سنٹرل ایشیا میں بھی امریکی اپنا اہم پارٹنر مان رہے ہیں۔ وہ سنٹرل ایشیا جسے روس اپنا بیک یارڈ سمجھتا ہے۔ کریٹکل منرل کے لیے امریکا یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں میں دلچسپی دکھا رہا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے پاکستان کی اہمیت اور رول کا انداز کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کو اپنی معیشت ٹھیک کرنے کے لیے بڑی پارٹنر شپ، سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس کے لیے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صورتحال بہتر بنانی ضروری ہے۔ دونوں جگہ میں مسائل کو ڈیل کرنے کی پالیسی مختلف دکھائی دیتی ہے۔ حال ہی میں حکومت مخالفت میں ریاست کی مخالفت تک پہنچ جانے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر کو انگیج کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں
2 فروری کو سہیل آفریدی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں شہباز شریف نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلا کر اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تعلقات ٹھیک کریں۔ مقصد یہی سمجھانا تھا کہ یہ تعلق ٹھیک ہوگا تو آپ کے لیڈر کو بھی ریلیف ملنا شروع ہو جائے گا۔ 4 فروری کو ایپکش کمیٹی اور اس کے بعد 10 فروری کو ایک اعلی سطحی فالو اپ میٹنگ ہوئی جس میں اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی تھی۔ ان بیک ٹو بیک میٹنگ کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ٹون بدلی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔
یہ امید ہو چلی تھی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ تناؤ میں کمی لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سیاسی ٹمریچر کم ہو گا تو دہشتگردی سے نپٹنا آسان ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی لیڈر کی اسپتال منتقلی کی باتیں زور پکڑ گئی تھیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کے اندر سے ہی کسی احتجاج کے بغیر ریلیف کو کمزوری سے تعبیر کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا گیا۔ کپتان کی صحت کے حوالے سے بہتری کی رپورٹ سامنے آ گئیں اور احتجاج کا اونٹ گھوم پھر کر وہیں پہنچ گیا جدھر سے شروع ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟
سنٹرل ایشیا اور ساؤتھ ایشیا میں پاکستان کو پارٹنر بنانے کی بات امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کانگریسی کمیٹی میں کی ہے۔ خود امریکی صدر بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت ، ایران پر پاکستان کی مشاورت اور کردار کی تعریف کر چکے ہیں۔ ہمیں مڈل ایسٹ میں بھی اوپننگ مل سکتی ہے۔ ہم اپنے گھر کو ٹھیک نہ کر سکے اور ورکنگ ریلیشن بنا اور دکھا نہ سکے تو لانگ ٹرم سچویشن پر تو شاید خاص اثر نہ پڑے۔ ہم اس طرح کے فوائد نہیں حاصل کر سکیں گے جو کیے جا سکتے ہیں۔ ہاتھ آتے امکانات دھندلاتے دکھائی دیے تو بات مزید ہارڈ اسٹیٹ کی طرف جائے گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
اسٹیبلشمنٹ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ پاک امریکا تعلقات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ پاک امریکا تعلقات سنٹرل ایشیا پاکستان کو حوالے سے فروری کو کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین