عمران خان کے لیے احتجاج، علی امین بھی اچانک مرکزی قیادت کے ساتھ بیٹھ گئے، کیا اختلافات ختم ہوگئے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ ناراض رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی منظرِ عام پر آ گئے۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور جو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد پشاور سے اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان چلے گئے تھے، وہاں سے بہت کم ہی نکلتے تھے اور پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی اور دیگر اجلاسوں میں بھی غیر حاضر رہتے تھے۔
مزید پڑھیں: عمران خان نے کہہ کر بھیجا ہے بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، علیمہ خان
باخبر ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور قیادت سے ناراض تھے اور اسی وجہ سے پارٹی اجلاسوں اور میٹنگز میں شرکت نہیں کرتے تھے۔
’علی امین گنڈاپور کی دھرنے میں شرکت، اراکین کے لیے کھانے کا انتظام‘علی امین گنڈاپور کے ترجمان کے مطابق سابق وزیراعلیٰ دھرنے کے اعلان کے فوراً بعد ڈی آئی خان سے اسلام آباد پہنچے اور دھرنے میں شرکت کی۔
ان کے مطابق علی امین دھرنے میں موجود ہیں، پہلے روز دھرنے میں بیٹھے، منتخب اراکین اور قائدین کے لیے کھانے کا بھی انتظام کیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ علی امین عمران خان کے فرنٹ کے سپاہی ہیں اور عمران خان کے لیے وہ ہر وقت فرنٹ پر موجود ہیں۔
’علی امین گنڈاپور کی پارٹی قیادت پر تنقید‘اسلام آباد میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین نے پارٹی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مؤقف اختیار کیاکہ ان سمیت پوری قیادت عمران خان کے جیل میں ہونے کی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ عمران خان کو غلط معلومات دی جا رہی ہیں۔ علی امین نے واضح طور پر کہاکہ احتجاج اور دھرنوں سے عمران خان باہر نہیں آئیں گے۔
کیا علی امین گنڈاپور کی ناراضی ختم ہوگئی؟علی امین گنڈاپور کی جانب سے اچانک اسلام آباد دھرنے میں شرکت اور پارٹی میں مخالف گروپ کے ساتھ بیٹھنے کے بعد ان کی پارٹی سے علیحدگی اور ناراضی کی خبریں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔
پارٹی کے ایک باخبر رہنما کے مطابق علی امین گنڈاپور اب بھی سخت ناراض ہیں۔ ان کے مطابق علی امین کا خیال ہے کہ ان کے دور میں عمران خان کی رہائی ممکن ہو رہی تھی، لیکن انہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس کے باعث عمران خان کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔
انہوں نے بتایا کہ علی امین وزیراعلیٰ ہاؤس سے واپس ڈی آئی خان منتقل ہوئے اور اس دوران اپنے آبائی علاقے سے بہت کم باہر نکلے، لیکن اسلام آباد دھرنے کے لیے اچانک پہنچ گئے، جو پارٹی قیادت کے لیے حیران کن تھا۔
ان کے مطابق اس وقت پارٹی اور صوبائی حکومت مخالف گروپ کے پاس ہے اور علی امین گروپ کا اثرورسوخ بہت کم ہو چکا ہے، جس کا انہیں بھی بخوبی اندازہ ہے۔ تاہم پارٹی اور کارکنان میں خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لیے شدید مخالفت اور ناراضی کے باوجود وہ مخالف گروپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔
انہوں نے مزید کہاکہ علی امین کے ساتھ بیرسٹر گوہر تو ہیں، لیکن اس وقت ان کی بات کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جا رہی۔
’جہاں تک مجھے علم یا اندازہ ہے، علی امین کو کسی نے منایا نہیں بلکہ انہوں نے خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ اس وقت پارٹی قیادت اور کارکنان سب کی نظریں ان پر ہیں۔‘
’علی امین ناراض تھے ہی نہیں، پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں‘دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی میں گروپنگ، اختلافات اور علی امین گنڈاپور کی ناراضی کی تردید کی ہے۔
ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ کے مطابق علی امین ناراض نہیں تھے بلکہ اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں گراس روٹ لیول پر کارکنوں کو فعال کرنے میں مصروف تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں عمران خان کا فیصلہ سب کو قبول ہوتا ہے اور علی امین نے عمران خان کی ہدایت پر ایک منٹ سوچے بغیر وزیراعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دیا۔
ان کے مطابق علی امین گنڈاپور کی محنت کے باعث آج ڈی آئی خان میں تین مقامات پر دھرنے ہو رہے ہیں۔
’علی امین پارٹی میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس لینے کی کوشش میں ہیں‘شہاب الرحمان نوجان، جو ایک صحافی ہیں اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، کے مطابق علی امین اپنے آبائی ضلع میں پارٹی کے بجائے ذاتی اثرورسوخ بڑھانے میں مصروف نظر آ رہے تھے۔
’علی امین کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پارٹی میں ان کی اہمیت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے، جس سے بچنے کے لیے ان کا اپنا ذاتی ووٹ بینک ہونا ضروری ہے۔‘
ان کے مطابق علی امین پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے، لیکن پارٹی قیادت اور عمران خان کی بہنوں سے سخت ناراض ہیں۔ شہاب کے مطابق علی امین عمران خان کی بہنوں کو ہی ان کی رہائی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں اور خود کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے میں بھی بہنوں کے کردار کا الزام لگاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: محسن نقوی عمران خان کی رہائی چاہتے تھے، بانی کا سنگجانی پر رکنے کا حکم نہ مان کر ہم تباہ ہوگئے، علی امین گنڈاپور
ان کا کہنا تھا کہ ناراضی اپنی جگہ، لیکن علی امین اس وقت کارکنوں کے دلوں میں اپنے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ آج بھی عمران خان کے وفادار ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پارٹی قیادت سے ناراضی دھرنا سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی علی امین گنڈاپور عمران خان عمران خان رہائی عمران خان کی بہنیں وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارٹی قیادت سے ناراضی سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی علی امین گنڈاپور عمران خان رہائی عمران خان کی بہنیں وی نیوز ان کے مطابق علی امین علی امین گنڈاپور کی عمران خان کی رہائی سابق وزیراعلی عمران خان کے پارٹی قیادت ان کی رہائی اسلام آباد پارٹی میں میں شرکت انہوں نے کے ساتھ ہیں اور کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک