ایف ای ڈی کے اساتذہ کی مستقلی کا معاملہ حل کیا جائے، جسٹس کیانی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محسن اخترکیانی نے وفاقی کابینہ کو فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ای ڈی)کے کنٹریکٹ اساتذہ کی مستقلی کے حوالے سے معاملہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ فیصلے کی کاپی سیکرٹری کابینہ ڈویژن کوبھجوائی جائے جو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو آگاہ کریں گے کہ معاملہ وفاقی کابینہ کے ایجنڈے پر آیا کہ نہیں۔ جبکہ جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے،اسلام آباد میں نئے اسکول نہیں بنائے گئے اور نہ ہی نئے اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں، طلباء فنڈ سے اساتذہ رکھے گئے اور انہوں نے 10، 15سال تک پڑھایا، اساتذہ کی اسامیاں نہیں نکلیں۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہورہاکہ لوگ کتنے ہیں، 6 سیکرٹری تبدیل ہوچکے ہیں، آدھوں نے عدالت کا نقطہ نظر مانا اور آدھوں نے اپنا نقطہ نظر مانا۔ وفاقی کابینہ کوفیصلہ کرنے دیں۔ بینچ نے کیس کی مزید سماعت 7اپریل 2026تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اساتذہ کی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔