ٹیم سے نکالنے پر کھلاڑیوں کا ہیڈ کوچ پر حملہ، 20 ٹانکے لگانے پڑے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
بھارت کی ڈومیسٹک ٹی 20 کرکٹ چیمپئن شپ، سیّد مشتاق علی ٹرافی کے دوران ایک تشویشناک واقعہ سامنے آیا جس میں انڈر19 کے ہیڈ کوچ ایس وینکٹارمن پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔
یہ واقعہ ایسوسی ایشن کے انڈور نیٹس میں پیش آیا جس کے نتیجے میں وینکٹارمن کو سر میں شدید چوٹیں آئیں، انہیں 20 ٹانکے لگانے پڑے اور کندھے میں فریکچر بھی ہوا۔ کھلاڑی اسکواڈ سے نکالے جانے پر ناراض تھے اور انہوں نے ہیڈ کوچ پر ہی حملہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوکری کا جھانسہ اور ہراسانی، کبڈی کی معروف کھلاڑی نے خودکشی کر لی
پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے اور بتایا کہ ملزمان فرار ہیں جنہیں تلاش کیا جا رہا ہے۔ وینکٹارمن نے اپنی شکایت میں دعویٰ کیا کہ کرکٹ ایسوسی ایشن آف پونڈیچری کے سیکریٹری جی چندرن نے کھلاڑیوں کو حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کھلاڑیوں نے حملے کے دوران کہا کہ انہیں موقع صرف اسی صورت میں ملے گا اگر وہ وینکٹارمن کو قتل کریں گے۔
دوسری جانب فورم کے صدر سینتھل کمارن نے سیکریٹری جی چندرن پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وینکٹارمن کے مقامی کرکٹرز کے ساتھ پہلے بھی اختلافات اور شکایات رہ چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈر 19 بھارتی کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی کرکٹ
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔