چینی کمپنی پاکستان میں سولر پینل فیکٹری لگانے کے لیے تیار؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
چینی کمپنی نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سولر پینل مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے تاکہ ملکی ضرورت کے ساتھ ساتھ برآمدات کو بھی فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے چین کی ہیبی جوہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ کمپنی لمیٹڈ کی ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی۔ چینی وفد کی قیادت چیئرمین وانگ جیانبن نے کی اور پاکستان میں سولر انرجی سمیت دیگر ہائی ٹیک شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اپنی دلچسپی ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا درجہ حرارت میں کمی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے لے آئی؟
وزیر قیصر احمد شیخ نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سنہری موقع ہے‘۔ انہوں نے حکومت کی کاروباری ماحول بہتر بنانے کی کوششوں اور وزیراعظم کی حالیہ اصلاحات، جن میں بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے نئے سنگل ونڈو عمل شامل ہیں کا ذکر بھی کیا۔
وفد کو سرمایہ کاری کے لیے 6,000 ایکڑ زمین مختص کرنے کی پیشکش بھی کی گئی۔ وزیر نے انہیں خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے فوائد سے آگاہ کیا، جن میں پہلے 10 سال کے لیے انکم ٹیکس سے استثنیٰ بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین کے لیے سرپرائز، نئے میٹر کی شرط کیوں لگائی گئی؟
قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور گزشتہ سال اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس تقریباً چار سے پانچ گنا بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، سولر انرجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کیمیکلز اور مینوفیکچرنگ کے شعبے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بہت زیادہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔
ملاقات میں ستمبر میں بیجنگ میں ہونے والی پاکستان-چین B2B انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں 8.
یہ بھی پڑھیں: اب سولر کو آپ بھول جائیں، امریکی ’انورٹر بیٹری‘ نے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا
وزیر نے چینی سرمایہ کاروں کے لیے BOI کی حمایت کے عزم کو دہرایا اور فزیبیلٹی اسٹڈیز اور جوائنٹ وینچر معاہدوں کی جلد تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کا مضبوط اسٹریٹجک پارٹنر ہے اور اعلیٰ معیار کی گرین ٹیک سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتا ہے، جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں سرمایہ کاری چینی کمپنی سولر سولر پینل سولر کی قیمتیں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں سرمایہ کاری چینی کمپنی سولر سولر پینل سولر کی قیمتیں پاکستان میں سرمایہ کاری کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔