نیپا واقعے پر ڈی ایس پی نیوٹاؤن کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
واقعے پر اب تک ایس ایس پی ایسٹ اور ڈی ایس پی سمیت 8 افسران معطل کیے جا چکے ہیں، رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیپا واقعے پر ڈی ایس پی نیوٹائون معین کمانڈو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،
اب تک واقعے پر ایس ایس پی ایسٹ اور ڈی ایس پی سمیت 8 افسران معطل کیے جا چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں ایک کھلے مین ہولز نے کئی محاذ کھول دیے، نیپا واقعے پر ہر ذمہ دار ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرا رہا ہے۔ واقعے پر ایک اور معطلی سامنے آئی ، ڈی ایس پی نیو ٹائون معین کمانڈو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیاہے۔
اس حوالے سے آئی جی سندھ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ، جس میں معین عرف کمانڈو کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق بچے کو ایس ایس پی دفتربلانے پر ایکشن لیا گیا تاہم اب تک واقعے پر ایس ایس پی ایسٹ اور ڈی ایس پی سمیت 8 افسران معطل کیے جا چکے ہیں۔ معطل ہونے والوں میں ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا اور ڈی سی ایسٹ ابراراحمد جعفری شامل ہیں۔ فرخ رضاکوسینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے اور ابراراحمد کومتعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلیٰ افسران کومعطل کیا تھا، جن میں اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال عامرعلی شاہ، بلدیہ عظمی کراچی کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسزعمران راجپوت، واٹر اینڈسیوریج کارپوریشن کے ایگزیکٹو انجینئر وقار احمد سمیت پانچ افسر شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔