Jang News:
2026-06-03@02:24:14 GMT

نیپا واقعہ، ڈی سی ایسٹ، ایس ایس پی ایسٹ عہدے سے فارغ

اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT

نیپا واقعہ، ڈی سی ایسٹ، ایس ایس پی ایسٹ عہدے سے فارغ

ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ ابرار احمد اور ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ابرار احمد کو محکمہ سروسز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر ملیر کو ڈپٹی کمشنر ایسٹ کا اضافی چارج دیئے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

دوسری جانب ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا کو بھی عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ نیپا واقعے کے بعد ضلعی مختیار کار سمیت سیوریج کارپوریشن کے متعلقہ انجینئر اور کے ایم سی کے متعلقہ سینئر ڈائریکٹر کو بھی معطل کیا جاچکا ہے۔

مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جاں بحق بچے ابراہیم کے گھر جا کر ان کے لواحقین سے معافی مانگی۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ نیپا واقعے کی ذمہ داری لیتا ہوں،  غم کی گھڑی میں الزامات کی سیاست میں نہیں جاؤں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم