کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرنے کے بعد لاپتہ، ’ایف آئی آر میئر کراچی پر کاٹی جائے‘
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
شہرِ قائد میں گٹروں کے ڈھکن اکثر غائب ہوتے ہیں، تقریباً ہر سڑک پر کھلے مین ہول نظر آتے ہیں۔ یہی کھلے گٹر آئے روز جان لیوا حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے موٹرسائیکل سوار متعدد بار حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ کراچی کے کسی نہ کسی محلے میں بچوں کے گٹر میں گرنے کا واقعہ مسلسل رپورٹ ہوتا رہتا ہے، اور اب تک کئی قیمتی جانیں ان کھلے گٹروں کی نذر ہو چکی ہیں۔
گزشتہ روز کراچی میں گلشنِ اقبال نیپا چورنگی کے قریب بھی ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں 3 سالہ بچہ بغیر ڈھکن کے مین ہول میں گر کر لاپتا ہوگیا جس کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔
یہ بھی پڑھیں: ’میرے بچے کو ڈھونڈنے میں مدد کریں‘، کراچی میں گٹر میں گرنے والے بچے کی ماں کی اداروں سے اپیل
افسوسناک حادثے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ مشتعل شہریوں نے نیپا چورنگی کے اطراف سڑکیں بلاک کر دیں اور حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھایا۔ ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بچہ کراچی میں ایک مین ہول میں گر گیا۔ پرانے پاکستان میں خوش آمدید۔
Her child fell into a manhole in Karachi.
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) November 30, 2025
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان نے ایک بیان میں کہا کہ بے سہارا ماں کی تڑپ، چیخیں اور بے بسی پورے نظامِ حکمرانی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ شہر کے وسط میں کھلے مین ہولز کا ہونا سنگین غفلت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس انسانی جان کے خطرے کا ذمہ دار کون ہے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم حکومتِ سندھ اور کراچی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بچے کی فوری، موثر اور بھرپور ریسکیو کارروائی کی جائے۔غفلت کے ذمے دار اہلکاروں کے خلاف فوری تحقیقات و کارروائی ہو۔ کراچی بھر میں کھلے مین ہولز کی ہنگامی کورنگ اور انسپیکشن کی جائے اور متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کی جائے۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان ہنگامی بیان
کراچی، نیپا چورنگی پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون کا بچہ کھلے مین ہول میں گر گیا۔ بے سہارا ماں کی تڑپ، چیخیں اور بے بسی پورے نظامِ حکمرانی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ شہر کے وسط میں کھلے مین ہولز کا ہونا سنگین غفلت ہے۔
ہیومن رائٹس… pic.twitter.com/rFRc8lhJAb
— Human Rights Council of Pakistan (@HRCPakistan) November 30, 2025
جنید رضا زیدی نے کہا کہ یہ ایف آئی آر میئر کراچی پر کاٹی جائے، جب شہر چلا نہیں سکتے تو میئر بنتے کیوں ہو۔
یہ ایف آئی آر میئر کراچی پر کاٹی جائے
جب شہر چلا نہیں سکتے تو میئر بنتے کیوں ہو ، جان چھوڑ دو
نیپا پل کے قریب شاپنگ مال کے سامنے 10 سال کا بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا٬ حادثے کے وقت مین ہول پر ڈھکن موجود نہیں تھا٬ بچے کو تلاش کرنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں
لعنت لوکل باڈیز… pic.twitter.com/MzmaiSRCKh
— Junaid Raza Zaidi (@junaidraza01) November 30, 2025
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے سینئر رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے کہا کہ اس بچے کے قاتل پیپلزپارٹی کی حکومت اور میئرکراچی مرضیٰ وہاب ہیں جو کراچی میں ایک گٹر کا ڈھکن نہ لگواسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں شہر کی ترقی کے دعوے کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔
کراچی میں نیپا چورنگی کے علاقے میں ایک تین سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ، یہ المناک حادثہ اور اس پر بچے کی ماں کی آہ و زاری نے دل چیر دیا ۔
کئی گھنٹوں کی کوشش کے باوجود بچہ گٹر سے نہ نکالا جاسکا ۔
اس بچے کے قاتل پیپلزپارٹی کی حکومت اور میئرکراچی مرضیٰ وہاب ہیں جو… pic.twitter.com/vWe5BqEWJn
— Mustafa Azizabadi (@azizabadi) December 1, 2025
ایک صارف نے واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔
چند منٹ کی خریداری کو آئی ماں خالی گود لوٹ گئی—سندھ حکومت، واٹر بورڈ اور میئر کراچی کی غفلت نے اس کا جہان چھین لیا۔ نیپا میں 4 سالہ بچہ کھلے گٹر میں گر گیا۔ BRT کے اربوں کھانے والوں نے ڈھکن تک نہ لگوائے۔ یہ حادثہ نہیں، حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ pic.twitter.com/qIPhImKVvQ
— Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ (@JavedMonis) November 30, 2025
علی عمران عباسی لکھتے ہیں کہ ہمارا المیہ یہ ہےکہ گلیوں کے گٹرپر ڈھکن تک نہیں،کسی کا بچہ صرف لاپرواہی کی بھینٹ چڑھ گیا۔کیا کسی کو فرق پڑے گا؟
اس ماں کی آہ شایدآسمانوں کو چیردےگی مگر افسوس!اقتدار کےایوانوں تک کبھی نہیں پہنچے گی۔
کراچی:گلشنِ اقبال نیپاکے قریب ایک ماں اپنے4سالہ بچےکےساتھ شاپنگ کرنےنکلی بس لمحوں کی بات تھی کہ اسکالختِ جگر کھلے گٹرمیں جاگِرا
ہمارا المیہ یہ ہےکہ گلیوں کے گٹرپر ڈھکن تک نہیں،کسی کا بچہ صرف… pic.twitter.com/n0dowHO31t
— Ali Imran Abbasi (@aliimranabbasi) December 1, 2025
لاپتا بچے کی والدہ نے میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اداروں سے درخواست کرتی ہوں کہ بچے کو تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں، ہمارا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں نہ ہی کسی کے خلاف کچھ کہہ رہے ہیں۔ میرا بچہ کس حال میں ہے یہ ہمیں بھی نہیں معلوم۔ گورنر اور میئر میرے بچے کو تلاش کروائیں، اپنا عملہ، ٹیم اور مشینری بھیجیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچے کی تلاش ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کی، مشینوں میں 15 ہزار روپے کا ڈیزل تک ہم نے خود ڈالا، انتظامیہ نے اس جگہ بجلی تک بند کردی۔
بچے کے والد نے بھی کہا کہ مشین ہم خود لے کر آئے انتظامیہ نے کوئی مدد نہیں کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچے کی تلاش کراچی مین ہول گٹر کے ڈھکن لاپتا بچہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچے کی تلاش کراچی مین ہول گٹر کے ڈھکن لاپتا بچہ بچہ کھلے مین ہول میں گر نیپا چورنگی میئر کراچی کراچی میں اور میئر ثبوت ہے بچے کو بچے کی ماں کی کہا کہ کا بچہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔