سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات سماعت
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات کی ہوگی جب کہ سماعت سے قبل جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے سلمان صفدر سے مکالمہ کیا کہ اس کمرہ عدالت میں گنجائش کم ہے اور آکسیجن کی کمی محسوس ہو رہی ہے، اس لیے مقدمات کمرہ عدالت نمبر دو میں سنے جائیں گے۔
جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سائیفر، توشہ خانہ اور ہتک عزت کیسز کی سماعت کرے گا۔
محمود خان اچکزئی، علی محمد خان سپریم کورٹ پہنچئے، سلمان اکرم راجہ، محمد سہیل آفریدی، گوہر علی، علی ظفر و دیگر رہنما بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔
بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بھی عدالت پہنچ گئیں، سپریم کورٹ بانی تحریک انصاف کے تین مقدمات کی سماعت کرے گا۔
عدالتی بینچ بشریٰ بی بی کی ضمانت کے خلاف پنجاب کی اپیل پر بھی سماعت کرے گا، بانی تک ذاتی معالجین کی رسائی کی استدعا بھی کی جائے گی، لطیف کھوسہ، نور الحق قادری بھی عدالت پہنچ گئے۔
سماعت سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی عمران خان کی بہنوں سے اہم ملاقات ہوئی جس میں عمران خان کی صحت، عدالتی معاملات اور دیگر امور پر گفتگو کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔