سندھ حکومت، ڈپٹی میئر کا نوٹس، نیپا واقعے کی رپورٹ طلب
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید اور ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد، فائل فوٹو
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید اور ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے کہا ہے کہ نیپا واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا۔
سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ جس کی بھی غفلت ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کراچی میں نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں بچہ گرنے کی اطلاع پر ریسکیو اہل کاروں نے تلاش شروع کر دی۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو1122 اور واٹر کارپوریشن کا عملہ موقع پر موجود ہے، بچے کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے نیپا واقعے کے بعد تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا ہے اور بچے کو جلد از جلد تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں اور کے ایم سی حکام سمیت واٹر کارپوریشن اور سندھ سالٹ ویسٹ کا عملہ بھی موقع پر موجود ہے۔
واضح رہے کہ 3 سال کا ابراہیم ولد نبیل نیپا شورنگی پر واقعے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آئی فیملی کے ساتھ آیا تھا کہ وہاں موجود کھلے ہوئے مین ہول میں گر گیا۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سندھ حکومت نے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولاجیکل سائنسز کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے کی تصدیق کردی
کراچی:سندھ حکومت نے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولاجیکل سائنسز کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے کی تصدیق کردی ہے۔
حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے جمعہ کے روز اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ حکومت سندھ جامعہ کراچی میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولاجیکل سائنسز (ICCBS) کو جامعہ کراچی سے الگ کر نے جا رہی ہے۔
یہ بات پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی سید ماروی راشدی نے سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی سید عادل عسکری کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں بتائی۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ سینٹر کو خود مختار بنایا جا رہا ہے جس سے اس کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی عادل عسکری نے ایوان کو بتایا کہ مذکورہ سینٹرکوجامعہ کراچی سے الگ کرنے کے بعد خدشہ ہے کہ آئی بی اے کی طرح یہاں بھی غریب طلبہ کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہوجائیں۔
انہوں نے بتایا کہ 1994ء میں آئی بی اے کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے کے بعد اس کے ایک سیمسٹر کی فیس میں لاکھوں روپے کا اضافہ ہوگیا تھا جس کے باعث غریب طلبہ کے لیے وہاں تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذکورہ سینٹر کی علحدگی کا مقصد اس کی کارکردگی کو بڑھانا ہے اسے الگ کرنے کے بجائے پوری جامعہ کراچی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔
اس سے قبل اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے صوبائی وزیر برائے تعلیمی بورڈز اوریونیورسٹیز اسماعیل راہو کی ایوان میں غیر موجودگی پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے وزیر قانون ضیا لنجار کو ہدایت کی کہ ایوان میں وزرا کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولاجیکل سائنسز کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس ایک دن قبل بھی سندھ اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل تھا لیکن متعلقہ وزیر اسماعیل راہو کی غیر حاضری کے باعث اسے جمعہ تک ملتوی کردیا گیا تھا، تاہم وہ آج بھی ایوان میں موجود نہیں تھے جس کے باعث رکن اسمبلی سید ماروی راشدی نے پارلیمانی سیکریٹری کی حیثیت میں اس کا جواب دیا۔