جاپان: پائپ پھٹنے کے بعد اوکیناوا جزیرے کے بیشتر حصے میں پانی بند
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوب مغربی جاپان کے اوکیناوا جزیرے کے حکام کا کہنا ہے کہ پانی کا پائپ پھٹ جانے کی وجہ سے مرکزی جزیرے کے زیادہ تر حصے میں پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اوگیمی گاؤں میں پانی کا ایک بڑا پائپ پھٹنے کے بعد پیر کی صبح بڑے پیمانے پر پانی رِستا ہوا پایا گیا۔ یہ پائپ 1967 ء میں بچھایا گیا تھا اور ڈیم سے پانی کی صفائی کے مرکز تک پانی اس پائپ کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا۔ پائپ لیک ہونے کے بعد ان میں سے ایک سے زیادہ کام کرنے سے قاصر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جزیرے کی 26 میں سے 11 بلدیات میں نلکوں میں پانی نہیں آ رہا۔ ان میں یومی تان گاؤں اور کن اور کادینہ قصبے شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اونّا گاؤں اور ناہا شہر سمیت 6دیگر بلدیات بھی جزوی طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حکام کا کہنا ہے کہ میں پانی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔