کندھ کوٹ گولہ پھٹنے سے 4 چرواہا بچے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کندھ کوٹ: انڈس ہائی وے کے قریب گولہ پھٹنے سے 4 بچے جاں بحق ہوگئے۔
ڈی ایس پی کندھ کوٹ ایاز علی کے مطابق صوبہ سندھ کے ضلع کشمور کی تحصیل کندھ کوٹ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں انڈس ہائی وے کے قریب گولہ پھٹنے سے 4 بچے جان سے چلے گئے جبکہ 2 بچے زخمی ہوئے ہیں۔
ایاز علی کا کہنا ہے کہ بچوں کا تعلق ایک ہی قبیلے سے بتایا جاتا ہے، جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 8 سے 10 سال کے درمیان تھی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مویشی چراتے ہوئے بچوں کو راکٹ لانچر کا زنگ آلود گولہ جنگل سے ملا، بچے گولے کو ناکارہ سمجھ کر کھیل رہے تھے کہ اچانک سے پھٹ گیا۔
حکام کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے سرچنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کندھ کوٹ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔