امریکہ اور جاپان کے ساتھ فلپائن کی مشترکہ مشقوں پر چینی فوج کا سخت ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
جنوبی محاذ کی فوجی کمان نے فلپائن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سنجیدگی سے فلپائن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً اشتعال انگیزی اور تناؤ میں اضافہ کرنے والی سرگرمیوں کو بند کرے۔ اسلام ٹائمز۔ بحیرۂ جنوبی چین میں امریکہ، جاپان اور فلپائن کی مشترکہ فوجی مشق منعقد ہوئی، جس میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز نیمِٹس بھی شریک تھا۔ ان مشقوں پر چین کی فوج کی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بین الاقوامی خبررساں ذرائع کے مطابق چین نے فلپائن کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ اور جاپان کے ساتھ اس کی مشترکہ مشقیں خطے میں تناؤ میں اضافے کا باعث بنیں گی۔ نیوزویک کے مطابق یہ مشق متنازع آبی حدود میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز نیمِٹس اور دیگر بحری جہازوں کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔
فلپائنی فوج کا کہنا ہے کہ دو روزہ مشقوں میں سمندری اور فضائی ہم آہنگی پر مبنی آپریشنز، آبدوزوں کے خلاف جنگی مشقیں، اور مشترکہ لینڈنگ آپریشنز شامل تھے۔ فلپائن کا دعویٰ ہے کہ ان مشقوں کا مقصد اپنے سمندری حقوق کا دفاع کرنا اور قانون پر مبنی بین الاقوامی نظم کے تحت اتحادیوں کے ساتھ تعاون کو بڑھانا ہے۔ چین کی جنوبی محاذ کی فوجی کمان نے فلپائن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سنجیدگی سے فلپائن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً اشتعال انگیزی اور تناؤ میں اضافہ کرنے والی سرگرمیوں کو بند کرے۔
چین نے مشقوں کے پہلے ہی دن ایک بمبار طیاروں کے اسکواڈرن کو علاقے میں گشت کے لیے روانہ کیا اور فلپائن پر الزام لگایا کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔ یہ مشق ایسے وقت انجام پائی ہے، جب چین نے اپنا دوسرا اور جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز فوجیان (Fujian) اسی علاقے کے نیول بیس میں تعینات کیا ہے، ایسا اقدام جو بحیرۂ جنوبی چین میں امریکی فوجی موجودگی کے مقابلے میں چین کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔