مکہ مدینہ ہائی وے پر بس حادثے میں 42 بھارتی عمرہ زائرین جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
سعودی عرب میں مکہ مدینہ ہائی وے پر ایک خوفناک بس حادثے میں 42 بھارتی عمرہ زائرین جان کی بازی ہار گئے۔
زائرین نے مکہ مکرمہ میں اپنے عمرہ مناسک مکمل کیے تھے اور مدینہ کی طرف بس میں سفر کررہے تھے کہ یہ المناک واقعہ پیش آیا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب ٹریفک حادثہ، بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 7 عمرہ زائرین جاں بحق
رپورٹس کے مطابق بس کے ڈرائیور نے گاڑی پر کنٹرول کھو دیا اور یہ ڈیزل سے بھرے ٹینکر سے جا ٹکرائی۔ حادثے کے وقت بس میں کئی مسافر سو رہے تھے۔
بھارتی مشن نے پیر کو اعلان کیاکہ مدینہ کے قریب رات دیر گئے ہونے والے اس المناک بس حادثے کے پیشِ نظر جدہ میں بھارتی قونصلیٹ جنرل میں 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔
بھارت کے قونصلیٹ اور سفارت خانہ کے اہلکاروں نے سعودی حج و عمرہ وزارت اور دیگر مقامی حکام سے رابطہ کیا اور حادثے کے مقام پر جا کر مدد فراہم کی۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
مودی نے اپنے پیغام میں کہاکہ مدینہ میں بھارتی شہریوں کے ساتھ پیش آنے والے اس حادثے پر بہت افسردہ ہوں۔ میری دعائیں اُن خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیارے کھو دیے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارا سفارتخانہ ریاض اور قونصلیٹ جدہ میں ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں اور ہمارے اہلکار سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
مزید پڑھیں: احمد آباد طیارہ حادثہ، بھارتی تاریخ کے بدترین فضائی سانحات میں المناک اضافہ
مکہ مدینہ روٹ 8 لین کا ایکسپریس وے ہے، جس پر چھوٹی گاڑیوں کی حد رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ بسوں کے لیے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سعودی عرب عمرہ زائرین جاں بحق مکہ مدینہ ہائی وے وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مکہ مدینہ ہائی وے وی نیوز مکہ مدینہ کے ساتھ نے والے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم