Al Qamar Online:
2025-12-10@17:50:59 GMT

27 ویں ترمیم، سپریم کورٹ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہفتہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT



اسلام آباد:

پارلیمان میں پیش 27 ویں آئینی ترمیمی بل نے رواں ہفتے کو سپریم کورٹ کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن بنا دیا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت سپریم کورٹ وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت بن جائیگی، جس کے پہلے چیف جسٹس کی تقرری انتظامیہ کرے گی۔

سپریم کورٹ نئی وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کی پیروی کے پابندی ہو گی۔ امکان ہے کہ رواں ہفتہ ملک کی موجودہ عدالتی عظمیٰ کیلیے آخری ہو گا، مجوزہ ترمیم میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے نام کیساتھ بھی لفظ  پاکستان ختم کر دیا جائیگا۔ 

ذرائع کے مطابق حکومت آئینی ترمیمی بل رواں ہفتے منظور کرانے کیلئے پرعزم ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا 12 نومبر کو ترکی کے دورہ پر جا رہے ہیں، ان کی غیر موجودگی میں سینئر ترین جج سید منظور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھائیں گے۔

اس دوران اگر 27 ویں ترمیم منظور ہوجاتی ہے تو حکومت کسی بھی سپریم کورٹ کے جج کو قائم مقام چیف جسٹس لگا سکتی ہے۔

آج تمام نظریں سپریم کورٹ کے ججز پر ہیں کہ مجوزہ 27 ویں ترمیم کیا ردعمل  دیتے ہیں، جوکہ 27 ویں ترمیمی بل پارلیمان میں پیش ہونے کے بعد ان کا پہلا ورکنگ ڈے ہے۔

وکلاء کی نظر میں مجوزہ آئینی ترمیم پر سپریم کورٹ سے ردعمل آئے گا۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ردعمل بطور ادارہ ہو گا، یا پھر کچھ جج اپنی آواز بلند کریں گے؟

وکلاء کی نظر میں تمام سپریم کورٹ ججز کو عدلیہ کی خودمختاری کیلئے ہم آواز ہونا چاہیے جوکہ  آئین کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے۔

کم از کم چیف جسٹس آفریدی کو 27 ویں ترمیمی بل کی منظوری سے قبل فل کورٹ اجلاس طلب کرنا چاہیے۔

حکمران اتحاد کے قانونی ماہرین  اپنی قیادت کو سمجھانے سے قاصر ہیں کہ ایسی عدالت کی ساکھ کیا ہو گی جس کے سربراہ کا تقرر حکومت کرے گی۔

وفاقی آئینی عدالت میں تقرری کے امیدوار سپریم کورٹ کے ججز کو بھی  موجودہ پارلیمنٹ کی ساکھ سے متعلق سنگین شکوک وشہبات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

نئی وفاقی آئینی عدالت کیلئے حکومت کے زیر اثر کام نہ کرنے کا تاثر ختم کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے رابطے پر کہا کہ  سپریم کورٹ کے ججز کو اصولی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل وفاقی ا ئینی عدالت سپریم کورٹ کے ویں ترمیم چیف جسٹس

پڑھیں:

سپریم کورٹ نے ڈی لسٹ ہوئے مقدمات سے متعلق پالیسی تشکیل دے دی

اسلام آباد:

انصاف کی فراہمی کو مؤثر اور بروقت بنانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا اقدام سامنے آگیا۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق سپریم کورٹ نے ڈی لسٹ ہوئے مقدمات سے متعلق پالیسی تشکیل دے دی۔

ڈی لسٹ ہونے والے مقدمات اسی روز دستیاب بینچز کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے، دستیاب بینچز ڈی لسٹ ہونے والے مقدمات کی ساڑھے 11 بجے کے بعد سماعت کریں گے۔

اگر ڈی لسٹ مقدمہ دستیاب بینچ کے سامنے مقرر نہ کیا جا سکا تو اس کو آئندہ ہفتے کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے ڈی لسٹ مقدمات سے متعلق پالیسی تشکیل دے دی
  • سینیئر وکیل کے سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت میں پیش ہونے پر عدالت برہم
  • سپریم کورٹ نے ایمان مزاری کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی
  • سپریم کورٹ نے ڈی لسٹ ہوئے مقدمات سے متعلق پالیسی تشکیل دے دی
  • پنجاب اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم ،PTI پر پابندی سمیت متعدد قراردادیں منظور
  • وفاقی آئینی عدالت نے متروکہ وقف اراضی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کردیا
  • جسٹس گل حسن  نے حلف اٹھا لیا
  • ٹیکس اور سیس فیس سے متعلق 771 درخواستوں پرسماعت پیر تک ملتوی
  • جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مستقل جج سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا
  • جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سپریم کورٹ کے مستقل جج کا حلف اٹھالیا