اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ کیس میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔