بھارتی اے آئی سمٹ میں مکمل بدانتظامی اور ناکامی بھارت کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارتی اے آئی سمٹ میں مکمل بدانتظامی اور ناکامی بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث بن گئی۔ شرکاء نے سمٹ کے دوران حکام کی نااہلی کے باعث پیدا ہونے والے شدید انتظامی بحران کا پردہ فاش کر دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ناقص انتظامات کے باعث شرکاء کو سیشنز کے درست اوقات کی تصدیق کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ متعدد افراد بغیر کسی واضح رہنمائی کے مختلف ہالوں کے باہر دربدر رہے جبکہ اندر جانے کے لیے طویل قطاریں لگیں رہیں۔
برطانوی جریدے کے مطابق سمٹ کے دوران بے ہنگم بھیڑ، بدنظمی اور انتشار دیکھنے میں آیا۔ شرکاء نے شکایت کی کہ بعض اسٹالز سے نمائش کی گئی مصنوعات چوری ہونے کے واقعات بھی پیش آئے۔ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی اور نگرانی کا مؤثر انتظام نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کی عدم دستیابی کے باعث بین الاقوامی وفود کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ غیر ملکی مہمانوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹیں پیش آئیں جس سے بھارت کی عالمی سطح پر ساکھ کو نقصان پہنچا۔
بھارتی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بدانتظامی کو تسلیم کرتے ہوئے انتظامات کے ناقص ہونے کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ سمٹ کے انتظامی امور میں کوتاہیاں ہوئیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق بھارت کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی ترجیحات ملکی مفاد کے بجائے ذاتی تشہیر اور میڈیا نمائش تک محدود ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث بلند و بانگ ترقیاتی دعوے عملی میدان میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے بین الاقوامی ایونٹس میں بدانتظامی بھارت کے ٹیکنالوجی دعوؤں کو کمزور کرتی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ دعووں اور عملی صلاحیتوں میں واضح فرق موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے باعث
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔