Juraat:
2026-07-24@05:14:28 GMT

وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

ریاض احمدچودھری

بھارت میں انتہاء پسند ہندو تنظیمیں متنازع ترانے وندے ماترم کو اکھنڈ بھارت ایجنڈے اور ہندوتوا غلبے کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس ترانے کو سیاسی اور نظریاتی مقاصد کیلئے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔غیر ہندو آبادی کو بھی وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میں تشدد اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں بعض شدت پسند عناصر اقلیتوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ وندے ماترم کی مخالفت کرنے والوں کو بھارت میں رہنے کا حق نہیں۔ وندے ماترم کے مخالفین کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دینا چاہیے۔ چند روز قبل انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بابری مسجد دوبارہ تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وندے ماترم کو اکھنڈ بھارت کے تصور سے جوڑنا بھارت میں مذہبی و سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ ہندوتوا بیانیہ کو سیاسی طور پر استعمال کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی ہے، جس کے اثرات معاشرتی ہم آہنگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے قومی گیت وندے ماترم کے تمام چھ بندوں کو سرکاری تقریبات، اسکولوں اور دیگر رسمی پروگراموں میں لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس حکم کو غیر آئینی، یکطرفہ اور من مانی قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی آئین میں مذہبی آزادی کے آرٹیکل 25 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہمیں وندے ماترم گانے پر اعتراض نہیں مگر اس کے آخری بندوں میں ہندو دیویوں درگا، لکشمی، سرسوتی کا ذکر مسلمانوں کیلئے شرک کی صورت میں ہے۔ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اور کسی کو مذہبی عقیدے کے خلاف مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری اْس نوٹیفیکیشن پر سخت اعتراض درج کیا ہے جس کے تحت سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے جن گن من سے قبل ”وندے ماترم” کے تمام اشعار پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو غیر دستوری، مذہبی آزادی کے منافی اور سیکولر اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کا یہ اقدام نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں سے بھی متصادم ہے۔ ان کے بقول ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی پس منظر رکھنے والی نظم یا عقیدے کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر جبراً مسلط نہیں کرسکتی۔مولانا مجددی نے وضاحت کی کہ آزادی کے بعد دستور ساز اسمبلی کی بحثوں اور مشاورت کے نتیجے میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ”وندے ماترم” کے صرف ابتدائی دو بند ہی قابل قبول ہوں گے۔ اس نظم کے دیگر اشعار میں دیوی دیوتاؤں کی مدح و ثنا اور پوجا کا ذکر آتا ہے، جو مسلمانوں کے عقیدہ توحید سے متصادم ہے۔ اسلام میں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت بنیادی عقیدہ ہے اور کسی بھی نوع کی شرک کی گنجائش نہیں۔ملکی عدالتوں نے بھی ماضی میں اس کے بعض حصوں کو لازمی قرار دینے کے خلاف رائے دی ہے، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ عدالتی نظائر اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے۔ بصورت دیگر بورڈ اس نوٹیفیکیشن کو عدالت میں چیلنج کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس طرح کے فیصلے ملک کی مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام طبقات کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جو آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم ہو۔
بھارت میں انتہاپسند ہندؤں کی مودی حکومت ہندوتوا کے نظریے کے فروغ کے لیے رات دن کوشاں ہے،اس سلسلے میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر ظلم،تشدد ، قتل و غارت ،کاروبار سے روکنا معمول بنتا جارہا ہے۔تازہ حکم نامے میں مودی سرکار نے ہندوتوا کے پرچار کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اسکولوں میں ‘وندے ماترم’ گانے کو لازمی قراردے دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں محکمہ ثقافت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکمنامے میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وندے ماترم کے 150 برس مکمل ہونے کے موقع پر تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں میں ثقافتی اور موسیقی کے پروگرام منعقد کیے جائیں، جن میں اس ترانے کی اجتماعی پیشکش کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکمنامے کے مطابق جموں اور کشمیر کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹرز کو ان تقریبات کی نگرانی کے لیے نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ سامنے آتے ہی مختلف مذہبی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس پر سخت اعتراضات اٹھائے گئے، جن کا کہنا ہے کہ طلبا کو اس طرح کے پروگراموں میں زبردستی شریک کرنا مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔اس معاملے پر وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ،اگر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل ہوتا، تو اس طرح کا حکمنامہ جاری کرنے کی کوئی جرآت نہیں کرتا۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس اب ریاست نہیں بلکہ یونین ٹریٹری ہے۔ اس فیصلے میں میرا کوئی رول نہیں ہے، فائل میرے پاس نہیں پہنچی اور میں اس فیصلے سے خوش نہیں ہوں۔وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ یہ آرڈر باہر سے جاری کیا گیا ہے اور وہ خود اس سے بے خبر تھیں۔اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کابینہ کی سطح پر نہیں لیا گیا۔ یہ فیصلہ وزیرِ تعلیم نے نہیں لیا، نہ ہی کابینہ نے اس پر کوئی بحث کی۔ ہمیں اپنے اسکولوں کے معاملات خود طے کرنے چاہئیں، باہر سے ہدایات نہیں آنی چاہئیں۔
٭٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مذہبی آزادی کے اسکولوں میں لازمی قرار وندے ماترم بھارت میں یہ فیصلہ کے خلاف گیا ہے ہے اور

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا