بھارت:اندور میں مساجد میں لاﺅڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اندور:بھارت میں مودی کی ہندو سرکار جہاں مسلمانوں کی قتل و غارت کررہی ہے وہیں مسلمانوں کو معاشی،مذہبی ،سماجی طور پر بھی مفلوج بنانے کی سازشوں میں بھی مصروف ہے۔
تازہ واقعے میں ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے اندور میں میئر نےمساجد میں لاﺅڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا نے کا مطالبہ کردیا ہے۔
اندور کے میئر نے مذہبی مقامات کے میناروں پر لگے لائوڈ اسپیکرز کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
میئر پشیامتر بھارگو کو گزشتہ کئی دنوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے لائوڈ اسپیکر ضبط کر لیے گئے ہیں، لیکن مساجد کے میناروں پر لگے لائوڈ اسپیکر اب بھی مختلف اوقات میں بڑے پیمانے پر صوتی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ اونچائی پر نصب اسپیکر آس پاس کے علاقوں میں صوتی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
میئر نے بتایا کہ انہیں صوتی آلودگی کی سب سے زیادہ شکایات وارڈ 72 (لوکمانیہ نگر)، وارڈ 41 اور وارڈ 48 کے مکینوں سے موصول ہوئی ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ میناروں پر بلند لائوڈ اسپیکر سے آواز پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے، جس سے روزمرہ کی زندگی میں خلل پڑتا ہے۔
میئر نے وضاحت کی کہ شہر میں سال بھر مقابلہ جاتی امتحانات اور اسکولی امتحانات منعقد ہوتے ہیں۔ اس سے طلباءکی تیاری متاثر ہوتی ہے اور بوڑھوں اور بیماروں کے لیے بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ڈی جے اور دیگر آواز کے آلات پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تو مذہبی مقامات پر نصب بلند لائوڈاسپیکر کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے کلکٹر کو اس مسئلہ سے آگاہ کیا ہے اور فوری کارروائی کی توقع ہے۔
میئر نے یاد دلایا کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایت پر اس معاملے پر پہلے ہی ریاستی سطح پر ہدایات جاری کر دی گئی تھیں اور کارروائی بھی کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ ایسے لائوڈ اسپیکر لگائے گئے تو انتظامیہ اس کی تفصیلی تحقیقات کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔