طالبان رجیم عالمی تنہائی کاشکار،افغان پاسپورٹ دنیا بھر میں کمزور ترین قرار
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
کابل(نیوز ڈیسک)طالبان رجیم عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا جبکہ افغان پاسپورٹ کو دنیا بھر میں کمزور ترین قرار دے دیا گیا ہے۔ طالبان کی آمریت، نااہلی اور دہشت گردی کی سرپرستی کے باعث افغان شہریوں پر دنیا کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں اور افغانستان عالمی سطح پر تنہائی، معاشی بحران اور بدامنی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
معروف عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مستند ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی تازہ درجہ بندی میں افغان پاسپورٹ کو دنیا کا سب سے کمزور پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان پاسپورٹ ایک سو ایکویں نمبر پر پہنچ چکا ہے جو بدترین درجہ بندی سمجھی جاتی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق افغان پاسپورٹ کی کمزور حیثیت کی بنیادی وجوہات خراب سفارتی تعلقات، بدانتظامی اور شدید سیکیورٹی خطرات ہیں۔ افغانستان واحد ملک بن چکا ہے جس کے پاسپورٹ رکھنے والے افراد صرف پچیس ممالک کا سفر کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق طالبان کی انتہا پسندانہ پالیسیاں نہ صرف افغان شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خدشات پیدا کر رہی ہیں۔
افغان پاسپورٹ کا دنیا میں سب سے کمزور قرار دیا جانا طالبان رجیم کی ناکام خارجہ پالیسی، سفارتی تنہائی اور عالمی اعتماد کے فقدان کی واضح مثال ہے، جس کے اثرات براہ راست عام افغان شہریوں کی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغان پاسپورٹ کے مطابق
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔