سوشل میڈیا پر آن لائن بھیک مانگنے والوں کے لیے سخت سزاؤں اور جرمانوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
دبئی پولیس نے رمضان المبارک کے دوران رہائشیوں کو آن لائن بھیک مانگنے اور جعلی عطیات کی اپیلوں میں اضافے پر خبردار کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق پیشہ ور گداگر اور نوسرباز سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس کے ذریعے لوگوں کے جذبات اور جذبۂ سخاوت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
دبئی پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زکوٰۃ اور عطیات صرف سرکاری طور پر منظور شدہ فلاحی اداروں کے ذریعے ادا کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
پولیس کے مطابق آن لائن بھیک مانگنے والوں کو تین ماہ تک قید اور 10 ہزار درہم جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی چندہ مہمات اور جعلی اپیلوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دبئی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا غیر مصدقہ ویب سائٹس پر گردش کرنے والی عطیات کی اپیلوں پر ہرگز توجہ نہ دیں اور مستند ذرائع سے ہی خیرات دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔