مدینہ منورہ کے قریب بھارتی عمرہ زائرین کی بس کو حادثہ،42 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
مدینہ منورہ کے قریب بھارتی عمرہ زائرین کی بس کو حادثہ،42 افراد جاں بحق WhatsAppFacebookTwitter 0 17 November, 2025 سب نیوز
مدینہ منورہ کے قریب ایک بس اور ڈیزل ٹینکر کے تصادم کے نتیجے میں 42 افراد جاں بحق ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مدینہ منورہ کے قریب عمرہ زائرین کی بس آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں 20 خواتین اور 11 بچوں سمیت 42 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تصادم کے بعد بس اور آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، صرف ایک مسافر زندہ بچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق بس میں سوار تمام عمرہ زائرین کا تعلق بھارت کے شہر حیدرآباد سے تھا۔ عمرہ زائرین کی بس مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جارہی تھی۔
ریسکیو ٹیموں نے حادثے کے مناظر کو ہولناک قرار دیا اور بتایا کہ بس مکمل طور پر جل چکی تھی، جس کی وجہ سے ہلاک شدگان کی شناخت انتہائی مشکل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کے مقدمے میں جسٹس محسن کے دلچسپ ریمارکس سزائے موت کا مطالبہ؛ شیخ حسینہ کے خلاف 5 سنگین الزامات کیا ہیں؟ وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج، پیپلزپارٹی کا 38 ارکان کی حمایت کا دعویٰ ججز کے استعفوں پر خوشی کے ڈھول پیٹنے کے بجائے فالٹ لائنز پُر کرنا مناسب ہوگا، سعد رفیق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے استعفی سے متعلق جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر وائرل سکیورٹی کونسل ووٹنگ سے قبل اسرائیل کا ایک بار پھر فلسطین کو قبول نہ کرنے کا اعلان وفاقی آئینی عدالت نے پہلا بڑا فیصلہ سنا دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مدینہ منورہ کے قریب عمرہ زائرین کی بس افراد جاں بحق
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔