سعودی ولی عہد محمد بن سلمان تاریخی دورہ پر واشنگٹن روانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
ریاض: ( ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امریکا کے اہم دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، دفاعی اوراقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ، سعودی ولی عہد کا باضابطہ استقبال کرینگے، دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کے امن و استحکام، دوطرفہ تعلقات اورمشترکہ مفادات سے متعلق اہم فیصلوں پربات چیت ہونے کی امید ظاہرکی جا رہی ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق 7 سال بعد امریکا اور سعودی عرب تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش ہوگی، فلسطین کے دوریاستی حل سےمتعلق امور بھی زیر بحث آئیں گے، سعودی عرب اور امریکا کے درمیان سرمایہ کاری کانفرنس 19 نومبر کو ہوگی۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک اشتراک کو مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔