اردن و پاکستان کا تعاون، اعتماد کا روشن سفر
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سے اردن کے شاہ عبد اللہ دوم نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی، تجارت، سرمایہ کاری، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
شاہ عبد اللہ دوئم نے غزہ تنازعہ کے ساتھ ساتھ جنگ کے بعد غزہ میں استحکام اور انسانی ہمدردی کی کوششوں میں اردن کے کردار کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کی تعریف کی۔
اردن اور پاکستان کے تعلقات وقت کے دھارے میں بارہا آزمائے گئے، مگر ہر آزمائش نے اس رشتے کو مزید مضبوط کیا۔ برادر اسلامی ممالک ہونے کے ناتے دونوں نے نہ صرف مذہبی و تہذیبی رشتوں کو برقرار رکھا، بلکہ سیاسی، دفاعی اور سفارتی محاذوں پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت قائم کی۔ آج جب دنیا خطوں، مفادات اور اتحادوں کی ازسر ِنو تشکیل کے عمل سے گزر رہی ہے، ایسے میں اردن اور پاکستان کا تعلق ایک ایسے استحکام کی مثال ہے جسے نہ وقتی دباؤ کمزور کرسکا اور نہ جغرافیائی فاصلے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفاد اور خطے میں امن و استحکام کو ترجیح دی ہے۔
فلسطین ہو یا کشمیر۔ اردن اور پاکستان نے انصاف اور انسانی حقوق کے اصولی مؤقف سے کبھی نظر نہیں پھیری۔دفاعی شعبے میں دونوں ممالک کا تعاون محض رسمی نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی گہری بنیاد پر قائم ہے۔ پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور اردنی فوج کی صلاحیتوں نے خطے میں ایک متوازن سپورٹ سسٹم پیدا کیا ہے، جو کسی بھی غیر مستحکم ماحول میں قابلِ تحسین ہے۔
البتہ معاشی اور تجارتی میدان وہ شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تجارت کا حجم امکانات کے مقابلے میں نہایت کم ہے، اگر دونوں ممالک مشترکہ سرمایہ کاری، فاسفیٹ، توانائی اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں میں تعاون بڑھائیں تو یہ نہ صرف دو طرفہ معیشتوں کے لیے سود مند ہوگا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی جہت دے سکتا ہے۔ اردن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بھی اس تعلق کی زندہ علامت ہے۔ یہ محنت کش نہ صرف اردن کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ پاکستان اور اردن کے درمیان ثقافتی رشتوں کو بھی مزید مضبوط کرتے ہیں۔ پاکستان اور اردن کے تعلقات کی تاریخ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطے میں امن، تعاون اور اعتماد کے ایسے رشتوں سے جڑی ہے جنھوں نے ہمیشہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں استحکام اور توازن کی ایک مضبوط علامت کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔
اگلے روز وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر اردن کے بادشاہ شاہ عبد اللہ دوم ابن الحسین دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تو یہ محض رسمی سفارتی سرگرمی نہیں تھی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، اشتراک اور باہمی احترام کی ایک جیتی جاگتی مثال تھی۔ وفاقی دارالحکومت میں شاہ عبداللہ دوم کے پرتپاک استقبال سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کی جھلک دکھائی دی بلکہ اس نے خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان نئی جہتوں پر مبنی سفارتی تعاون کی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا۔
شاہ عبداللہ دوم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں امن و استحکام شدید نوعیت کے چیلنجوں سے دوچار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، خصوصاً غزہ کی صورتحال، عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات اور علاقائی اتحادوں کی ازسرنو تشکیل کے تناظر میں پاکستان اور اردن جیسے معتدل اور امن کے خواہاں ممالک کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد پہنچتے ہی صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے اراکین کی جانب سے شاہ عبداللہ دوم کا پرتپاک استقبال پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اردن کی اہمیت کا واضح اظہار تھا۔وزیراعظم ہاؤس میں شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں پروقار استقبالیہ تقریب اور گارڈ آف آنر نے اس دورے کو خصوصی نوعیت عطا کی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور شاہ عبداللہ دوم کے درمیان ہونے والی ملاقات پاکستان اور اردن کے درمیان اسٹرٹیجک شراکت داری کو نئی جہتوں سے روشناس کرنے کی جانب اہم قدم تھا۔ ملاقات میں نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا گیا بلکہ اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ یہ تمام شعبے وہ اہم میدان ہیں جن میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور عالمی چیلنجز کے مقابلے میں متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر میڈیا، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور اردن صرف سفارتی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی روابط بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ ثقافتی اور تعلیمی تعاون وہ پل ہیں جو قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ اردن اور پاکستان دونوں مذہبی، تاریخی اور ثقافتی اقدار کے ایسے امین ہیں جن میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔
میڈیا کے شعبے میں مفاہمت سے دونوں ممالک کے صحافتی ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو سکیں گے، جب کہ تعلیمی شعبے میں تعاون طلبا اور محققین کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائے گا۔شاہ عبداللہ دوم نے خطے میں امن و استحکام کے قیام میں پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ عبداللہ دوم کو پاکستان کے اردگرد خصوصاً افغانستان اور بھارت کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ پاکستان اور اردن دونوں خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ممالک ہیں۔
افغانستان کی صورتحال پورے خطے پر اثرانداز ہوتی ہے جب کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات جنوبی ایشیا کے جغرافیائی سیاسی ماحول میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، لہٰذا اس تبادلہ خیال سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹرٹیجک مشاورت کے دائرے میں وسعت آئی ہے۔وزیراعظم کی جانب سے شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں دیے گئے خصوصی عشائیے میں وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، فیلڈ مارشلز، اور دیگر اہم وزرا کی شرکت پاکستان اور اردن کے تعلقات کی گہرائی اور اہمیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایسے اعلیٰ سطح پر مراسم دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور اعتماد کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اردن کی جانب سے پاکستان کے عوام اور حکومت کی مہمان نوازی کا اعتراف اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی دیرپا بنیادوں کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستان اور اردن کے درمیان دفاعی، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں پہلے ہی موثر تعاون موجود ہے، جسے مستقبل میں مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، انتہا پسندی اور نئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ایک بنیادی ضرورت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔اس دورے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر باہمی فائدہ مند تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
موجودہ جیو پولیٹیکل حالات میں یہ نہایت اہم ہے کہ ترقی پذیر اسلامی ممالک باہمی اتحاد کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کریں تاکہ عالمی سطح پر اُن کا مؤثر کردار قائم رہ سکے۔پاکستان اور اردن دونوں امن کے داعی ممالک ہیں۔ دونوں نے ہمیشہ عالمی تنازعات کے حل میں مذاکرات، سفارت اور انسانیت کی بنیاد پر حل تلاش کرنے کی حمایت کی ہے۔ یہی وہ مشترکہ قدر ہے جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ شاہ عبداللہ دوم کا حالیہ دورہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان اور اردن مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف مضبوط سفارتی تعلقات کو برقرار رکھیں گے بلکہ نئی راہیں بھی نکالیں گے۔
یہ دورہ یقیناً پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ پاکستان آج جس معاشی اور سیاسی صورتِ حال سے گزر رہا ہے، اس میں ایسے دورے نہ صرف بیرونی اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، تجارت اور بین الاقوامی تعاون کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔ اردن کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ سے پاکستان کے لیے نئی منڈیاں اور نئے مواقع پیدا ہوں گے، جب کہ اسٹرٹیجک شعبوں میں اشتراک سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔
اردن اور پاکستان کا رشتہ ایک مثال ہے کہ دوریاں جغرافیے میں ہوتی ہیں، دلوں میں نہیں۔ یہ تعلق آج بھی اتنا ہی مضبوط ہے جتنا سات دہائیاں پہلے تھا اور مستقبل میں اس کے مزید فروغ کی روشن امید موجود ہے۔شاہ عبداللہ دوم کا یہ دورہ خطے میں امن، ترقی اور اشتراکِ عمل کی ایک مضبوط امید ہے۔ پاکستان اور اردن کے درمیان یہ دوستی آیندہ برسوں میں مزید مستحکم ہوگی اور دونوں ممالک مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھیں گے۔ یہی وقت کا تقاضا بھی ہے اور یہی دونوں ممالک کے عوام کی امید بھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور اردن کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان شاہ عبداللہ دوم کے شاہ عبداللہ دوم کا اردن اور پاکستان میں دونوں ممالک کہ پاکستان اور ایک دوسرے کے سرمایہ کاری پاکستان کے شہباز شریف میں تعاون کے تعلقات تعلقات کی تعلقات کو ہیں بلکہ میں ایک یہ دورہ کے ساتھ کرنے کی کو مزید کی جانب کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔