Express News:
2026-06-03@08:31:43 GMT

روان ایٹنکنسن

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

ٹی وی پر مزاحیہ پروگرام کی بات کی جائے، تو وہ چہرہ جو کئی زبانوں، کئی ملکوں، کئی نسلوں میں ہنسی کا سبب بنا — وہ ہے روان ایٹنکنسن Atkinson) (Rowan ۔

اْن کا کردار مسٹر بین، اندازِ اظہار، خاموشی میں بولنے کی صلاحیت، اور اس سے بھی بڑھ کر، مزاح کا وہ اسلوب جو لفظوں سے کم، جسمانی حرکتوں اور تاثرات سے زیادہ بولتا ہے۔ یہ سب مل کر اْنہیں دنیا بھر میں ایک ممتاز اور مقبول ترین فن کار کا درجہ دلاتے ہیں۔

خاندانی پس منظر

روان سیباسچن ایٹنکنسن نے 6 جنوری 1955 کو برطانیہ کی دارہم کاؤنٹی میں واقع کونسٹ (Consett) نامی علاقے میں آنکھ کھولی۔ اْن کے والد، ایرک ایٹنکنسن، ایک کسان اور کمپنی ڈائریکٹر تھے۔  اْن کے تین بڑے بھائی تھے، روان سب سے چھوٹے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈرہم چوّرِسٹر اسکول اور پھر سینٹ بیز اسکول سے حاصل کی۔ تعلیمی اعتبار سے روان ایٹنکنسن نے اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل کی۔ انہوں نے نیوکاسل یونیورسٹی سے الیکٹرانک انجینئرنگ میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے دی کوئینز کالج سے ایم ایس سی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ یہ بات حیران کن ہے کہ ایک شخص نے انجینئرنگ میں اتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر مزاحیہ اداکاری کی دنیا میں اپنا نام بنایا۔

 سٹیج سے برِٹش ٹی وی تک

روان ایٹنکنسن کے کیریئر کا آغاز آسان نہیں تھا۔ یہ ان کی محنت اور تخلیقیت تھی جس کی وجہ ان کی فنکارانہ صلاحیتوں میں نکھار آیا۔ یونیورسٹی کے دوران وہ اور اْن کے ساتھی (سکرین رائٹر اور کامیڈین رچرڈ کرٹس) نے آکسفورڈ یونیورسٹی ڈرامائی سوسائٹی (OUDS) کے تحت اسکیچِز لکھے اور انہیں پرفارم کیا۔ 1976ء میں ایڈنبرا فیسٹیول فرِنج میں اْن کی پرفارمنس کو سراہا گیا، جس سے ان کے مستقبل کی سمت کا تعین ہو گیا۔

1979ء میں بی بی سی کے شو the Nine O'Clock News' 'Not میں شامل ہوئے، جو مزاحیہ اسکیچ پروگرام تھا اور ان کے لیے پہلا بڑا پلیٹ فارم ثابت ہوا۔  اس شو سے انہیں پہچان ملی، اس شو میں اداکاری کے ساتھ انہوں نے بطور لکھاری بھی اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ اس دور کے اْن کے اندازِ مزاح کی خصوصیات میں بولنے سے زیادہ حرکت، تاثرات اور جسمانی حرکات شامل تھیں  — جس نے بعد میں ان کے لیے ’’مسٹر بین‘‘ جیسے مشکل کردار کو نبھانا آسان بنا دیا۔  1983ء سے 1989ء تک Blackadder نامی تاریخی مزاحیہ سیریز میں روان نے ایڈمنڈ بلیک ایڈر کا کردار ادا کیا، جو وقت کے مختلف روپ اختیار کرتا رہا۔ بلیک ایڈر کے کردار میں بولنے کا انداز، طنز، اور زبان کے چٹ پٹے استعمال نے انہیں طنزیہ کامیڈی کا ماسٹر بنایا۔

 مسٹر بین کا آغاز

یکم جنوری 1990ء کو ’’مسٹر بین‘‘ کی پہلی خصوصی قسط نشر ہوئی۔ پھر 1990ء سے 1995ء تک ایک مکمل سیریز بنائی گئی۔ اس کردار کی اصل خصوفیت یہ تھی کہ اس میں مکالمے بہت کم تھے، لیکن حرکتیں اور تاثرات بہت زیادہ۔ خود روان نے کہا ہے کہ اس کردار کی بنیاد فرانسیسی کامیڈین ژاک تاتی کے ’’مسؤر ہیولوٹ‘‘ سے ملی تھی۔

عالمی سطح پر اس کردار کو اتنی مقبولیت ملی، جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے آپ کا انگریزی زبان سے واقف ہونا ضروری نہیں، کیونکہ اس میں مسٹر بین کی حرکات اور مضحک صورتحال سے مزاح تخلیق کیا گیا۔ مسٹر بین کا نام اصل میں مختلف سوچا گیا تھا — ’’مسٹر وائٹ‘‘ یا پھر ’’مسٹر کالی فلوور‘‘ (Cauliflower) جیسا نام زیرِِِ غور تھا، مگر آخر میں ’’مسٹر بین‘‘ کے حق میں فیصلہ ہوا۔ بعدازاں روان نے فلموں میں بھی کام کیا، دوسرے ٹی وی کامیڈی پروگرام بھی کیے، لیکن ’مسٹر بین‘ جیسی مقبولیت کی مثال نہیں ملتی۔ مسٹر بین کا کردار دراصل آدمی کے جسم میں ایک بچہ ہے — انسانی کمزوریوں، بے وقوفیوں، مگر بے حد معصومیت کے ساتھ۔

 عالمی شناخت اور ثقافتی اثر

روان ایٹنکنسن کی کامیڈی نے جغرافیہ کی حدوں کو عبور کیا۔ ان کے مزاح کے راستے میں زبان کی خلیج حائل نہیں تھی، اس لیے یہ کردار ایشیا، یورپ، افریقہ، لاطینی امریکہ – ہر جگہ پسند کیا گیا۔ اعزازات کی بین الاقوامی فہرست اس مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے ثابت کیا کہ مزاح کا ایک کائناتی پہلو ہے: ہنسی، حیرت، جذبات — یہ وہ عناصر ہیں جو کسی بھی خطے، کسی بھی زبان میں اثر دکھاتے ہیں۔ ’’مسٹر بین‘‘ کے یوٹیوب چینل نے کروڑوں سبسکرائبرز حاصل کیے اور دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ اس طرح روان نے صرف اداکار کے طور پر نہیں بلکہ ’’عالمی کامیڈین‘‘ کے طور پر بھی اپنا مقام بنایا۔ مزاح کی اس عالمی رسائی نے انہیں مختلف ملکوں میں لوگوں کے جیون میں چھوٹا سا مگر قابلِ ذکر حصہ دار بنا دیا۔ ان کی کامیڈی سے دنیا بھر میں لوگ کبھی نہ کبھی محظوظ ہوئے اور یہ خوبصورت لمحے زندگی کا حصہ بن گئے۔

روان نے 1990ء میں میک اپ آرٹسٹ سْنیترا ساسٹری Sastry) (Sunetra  سے شادی کی، اور ان کے دو بچے ہوئے۔ 2014ء کے بعد اْن کا تعلق کامیڈین لوئیس فورڈ  (Louise Ford) کے ساتھ رہا، جن کے ساتھ اْن کا ایک بچہ ہے۔

ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ مارچ 2001ء میں جب وہ کینیا میں چھٹیوں پر تھے، اْن کے ذاتی طیارے کے پائلٹ بے ہوش ہوگئے، روان نے عارضی طور پر طیارہ کنٹرول کیا تاکہ لینڈنگ ممکن ہو جائے۔ گاڑیوں کے بھی بہت شوقین  ہیں، اْنہوں نے کلاسک اور سپورٹس کاریں خریدیں اور اور خود ڈرائیونگ کی۔ اگرچہ ان کا کیریئر ابھی ختم نہیں ہوا، مگر ابھی تک کے کام کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مزاح کی دنیا میں بڑے احترام سے لیا جائے گا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: روان ایٹنکنسن انہوں نے حاصل کی کے ساتھ روان نے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟