مقبوضہ کشمیر میں تاجروں کے خلاف کریک ڈائون
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251118-08-3
سری نگر(صباح نیوز)مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پولیس نے کیمیکل، کھاد سٹورز اور گاڑیوں کے شورومزکی تلاشی تیز کردی ہے جس سے مقامی تاجروں میں شدید غم وغصہ پیداہوا ہے جن کا کہنا ہے کہ انہیں لال قلعہ کے دھماکے کے بعد حفاظتی اقدامات کی آڑ میں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ پولیس ٹیموں نے اسلام آباد، گاندربل، پلوامہ، اونتی پورہ اور دیگر اضلاع میں اچانک تلاشی کی کارروائیاں کیں، اسٹاک رجسٹروں، لائسنسوں، اسٹوریج یونٹس اور کھاد اور کیمیکل کی دکانوں کے سیل ریکارڈ کی چھان بین کی۔ تاجروں نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس اہلکار انہیں بار بار تنبیہ کررہے ہیں، معمول کے لین دین پر سوال اٹھارہے ہیں اور معمولی غلطیوں پر کارروائی کی دھمکی دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسے جان بوجھ کر ہراساں کرنے کا بہانہ قراردیا۔ تاجروں نے کہا کہ پولیس دہلی کے واقعے کو شہری آبادی پر کنٹرول سخت کرنے اور مقبوضہ علاقے میں معمول کی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے لیے ایک اور بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔پلوامہ میں مقیم کھاد کے ایک ڈسٹری بوٹر نے کہاکہ وہ ہماری دکانوں میں اس طرح داخل ہوتے ہیں جیسے ہم مجرم ہوں۔ ہر چند گھنٹے بعد کوئی نئی ٹیم چیکنگ کے لیے آتی ہے۔ یہ کوئی قانون نہیں بلکہ یہ دھمکی آمیز رویہ ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ اچانک اور بار بار چھاپے ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں تاکہ کشمیریوں کے کاروبار کو دبا ئومیں رکھا جائے۔ شوپیاں میں کار ڈیلرز سے کہا گیا کہ وہ علاقے کے باہر سے لائی گئی گاڑیوں کی مکمل تفصیلات پیش کریں جس سے خریداروں اور بیچنے والوں میں غیر ضروری خوف و ہراس پھیل گیا۔یہ مہم 10نومبر کو دہلی میں لال قلعے کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعدشروع کی گئی ہے۔ مقامی کاروباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مقیم دکانداروں کو سینکڑوں کلومیٹر دور واقعات سے جوڑنا ایک متعصبانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں معمول کی معاشی سرگرمیوں کو جرم بنایا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔