Jasarat News:
2026-06-03@08:12:12 GMT

مقبوضہ کشمیر میں تاجروں کے خلاف کریک ڈائون

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251118-08-3
سری نگر(صباح نیوز)مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پولیس نے کیمیکل، کھاد سٹورز اور گاڑیوں کے شورومزکی تلاشی تیز کردی ہے جس سے مقامی تاجروں میں شدید غم وغصہ پیداہوا ہے جن کا کہنا ہے کہ انہیں لال قلعہ کے دھماکے کے بعد حفاظتی اقدامات کی آڑ میں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ پولیس ٹیموں نے اسلام آباد، گاندربل، پلوامہ، اونتی پورہ اور دیگر اضلاع میں اچانک تلاشی کی کارروائیاں کیں، اسٹاک رجسٹروں، لائسنسوں، اسٹوریج یونٹس اور کھاد اور کیمیکل کی دکانوں کے سیل ریکارڈ کی چھان بین کی۔ تاجروں نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس اہلکار انہیں بار بار تنبیہ کررہے ہیں، معمول کے لین دین پر سوال اٹھارہے ہیں اور معمولی غلطیوں پر کارروائی کی دھمکی دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسے جان بوجھ کر ہراساں کرنے کا بہانہ قراردیا۔ تاجروں نے کہا کہ پولیس دہلی کے واقعے کو شہری آبادی پر کنٹرول سخت کرنے اور مقبوضہ علاقے میں معمول کی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے لیے ایک اور بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔پلوامہ میں مقیم کھاد کے ایک ڈسٹری بوٹر نے کہاکہ وہ ہماری دکانوں میں اس طرح داخل ہوتے ہیں جیسے ہم مجرم ہوں۔ ہر چند گھنٹے بعد کوئی نئی ٹیم چیکنگ کے لیے آتی ہے۔ یہ کوئی قانون نہیں بلکہ یہ دھمکی آمیز رویہ ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ اچانک اور بار بار چھاپے ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں تاکہ کشمیریوں کے کاروبار کو دبا ئومیں رکھا جائے۔ شوپیاں میں کار ڈیلرز سے کہا گیا کہ وہ علاقے کے باہر سے لائی گئی گاڑیوں کی مکمل تفصیلات پیش کریں جس سے خریداروں اور بیچنے والوں میں غیر ضروری خوف و ہراس پھیل گیا۔یہ مہم 10نومبر کو دہلی میں لال قلعے کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعدشروع کی گئی ہے۔ مقامی کاروباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مقیم دکانداروں کو سینکڑوں کلومیٹر دور واقعات سے جوڑنا ایک متعصبانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں معمول کی معاشی سرگرمیوں کو جرم بنایا جاتا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) لاہور پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک 4 ہزار سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق اقبال ٹائون ڈویژن میں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ 2132 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ صدر ڈویژن میں 1555 اور سٹی ڈویژن میں 1040 افراد کو حراست میں لیا گیا، شہر کے مختلف تھانوں میں 651 مقدمات کا اندراج بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کرایہ داری رجسٹریشن انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد پناہ لے سکتے ہیں اس لیے قانون کی خلاف ورزی کرنےپر بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور غیر قانونی یا مشکوک افراد کو کرائے پر جگہ فراہم کرنے والے مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

(جاری ہے)

سی سی پی او لاہور نے مکان مالکان، کرایہ داروں اور پراپرٹی ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر کرایہ داری ایکٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور تمام ضروری کوائف متعلقہ پولیس ریکارڈ میں درج کروائیں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی