92 فیصد تاجروں نےصورتحال منفی قراردیدی،گیلپ سروے
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
لاہور:گیلپ سروے نے معاشی بہتری کے حکومتی دعوﺅں کاپول کھول کے رکھ دیا، 92 فیصد کاروباری طبقے نے کاروباری صورتحال منفی قرار دے دی، 88 فیصد کا مستقبل سے مایوس، ملکی سمت سے متعلق کاروباری اداروں کی رائے منفی 8 فیصد ہو گئی۔
گیلپ پاکستان نے بزنس کانفیڈنس انڈیکس 16ویں ویوکی رپورٹ جاری کردی ہے۔سروے کے نتائج کے مطابق اگرچہ 2025کی دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں ملک کی مجموعی سمت کے بارے میں کاروباری اعتماد میں معمولی کمی آئی ہے تاہم مجموعی طورپر کاروباری اعتماد اب بھی 2024کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں مثبت ہے۔
موجودہ کاروباری صورتحال کے بارے میں مثبت تاثر گزشتہ سروے کے 20فیصد سے کم ہوکر 8فیصد ہوگیا ہے، جواس بات کی عکاسی ہے کہ گزشتہ سروے کے مقابلے میں کاروباری اداروں کی ایک نسبتا کم تعداد موجودہ حالات کو بہتر سمجھتی ہے۔
اسی طرح مستقبل کی توقعات کے بارے میں کاروباری اداروں کی رائے میں کمی آئی ہے اور گزشتہ سروے کے 22فیصد مثبت کے مقابلے میں کاروباری اداروں کی رائے 12فیصد مثبت ہوگئی ہے۔
ملک کی سمت کے بارے میں بھی کاروباری اداروں کی رائے گزشتہ سروے کے منفی 2فیصد کے مقابلے میں منفی 8فیصد ہوگئی ہے۔
اس کمی کے باوجودگزشتہ سالوں کے مقابلے میں کاروباری اعتماداب بھی بہتر ہے جو مستقبل میں بہتری کی امید ہے۔
سروے کے نتائج کے مطابق افراطِ زر اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے اور33فیصد شرکا نے اشیا کی قیمتوں میں استحکام کی فوری ضرورت پر زوردیا ہے۔
اگرچہ حالیہ سہ ماہیوں میں مہنگائی میں کمی کے رجحان کے باوجودچند ماہ سے خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ملک میں لوڈشیڈنگ کا بحران اب بھی جاری ہے اور سروے کے نتائج کے مطابق گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی 42فیصد کاروباری اداروں نے لوڈشیڈنگ کی اطلاع دی ہے۔
حکومت کی جانب سے بجلی کے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے باوجودبجلی کی مسلسل فراہمی میں رکاوٹ پیداواری سرگرمیوں اور مجموعی معاشی کارکردگی کو متاثر کررہی ہے۔
معاشی حکمت عملی کے حوالے سے 46فیصد کاروباری اداروں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے مقابلے میں موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5فیصد اضافہ ہواہے۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور اکنامک انڈیکٹرز سیریز کے ڈائریکٹر بلال گیلانی نے سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سروے میں اگرچہ اس سہ ماہی میں کاروباری اعتماد میں معمولی کمی آئی ہے تاہم رجحان اب بھی مثبت ہے۔
انہوں نے کہاکہ کاروباری اداروں کا واضح پیغام ہے کہ صرف استحکام کافی نہیں ہے۔مضبوط اور مسلسل اقتصادی ترقی ہی اعتماد کو مستقل طورپر بلند رکھ سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کاروباری اداروں کی رائے کاروباری اعتماد کے مقابلے میں سروے کے نتائج گزشتہ سروے کے میں کاروباری کے بارے میں فیصد کا اب بھی
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔