عدم برداشت معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے، مثبت رویے اپنانے ہونگے، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 16 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتہا پسندی اور نفرت انگیزی کی کوئی گنجائش نہیں، برداشت کا فروغ ملکی ترقی اور امن کے لیے ناگزیر ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے عالمی یوم برداشت پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام اور ہم آہنگی برداشت سے پیدا ہوتی ہے، عدم برداشت معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے، مثبت رویے اپنانے ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی یوم برداشت انسانیت کے اقدار کو اجاگر کرنے کا دن ہے، پاکستان ہر سطح پر احترام اور باہمی برداشت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، بہتر معاشرے کی بنیاد رواداری کو اپنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔دریں اثنا، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی عالمی یوم برداشت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ہم آہنگی اور پر امن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، برداشت کے اصول اسلام کی اعلی تعلیمات سے جڑے ہوئے ہیں۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اسلام امن، ہم آہنگی اور رواداری کا علمبر دار ہے، حکومتی پالیسیوں کا محور سماجی اور مذہبی استحصال کاخاتمہ ہے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ تمام طبقات محبت، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ میں کردار ادا کریں، رواداری اور سماجی ہم آہنگی ہماری قومی پہچان ہونی چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعازمین حج کو سہولیات دینے سے متعلق سعودی حکومت نے فین ٹرپ مہم کا آغاز کر دیا عازمین حج کو سہولیات دینے سے متعلق سعودی حکومت نے فین ٹرپ مہم کا آغاز کر دیا بشری بی بی کے بیٹے موسی مانیکا کے وارنٹ گرفتاری جاری ، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم روس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کیلئے ثالثی کی پیشکش دولتِ مشترکہ میں نوجوانوں کی آواز کو مزید مضبوط بنایا جائے،رانا مشہود حکومت کا پیٹرول پرلیوی میں ایک روپے 60پیسے فی لیٹر کا اضافہ پنجاب حکومت کا کرشنگ میں تاخیر کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر