ای کامرس کے فروغ کیلیے ورک فورس روڈ میپ کی ضرورت
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کاای کامرس کاشعبہ آئندہ پانچ برس میں ہزاروں روزگارکے مواقع پیداکرنے کی صلاحیت رکھتاہے، تاہم ماہرین نے خبردارکیاہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر انسانی وسائل کی ترقی، اسکلڈورک فورس کی کمی اور تربیتی نظام کی بکھری ساخت کو درست نہ کیا تو یہ صلاحیت عملی شکل اختیار نہیں کرسکے گی۔
تیز رفتار ڈیجیٹل اپنایاجانے اور متوقع ای کامرس پالیسی 2.
ماہرین نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا ای کامرس اور اس سے منسلک شعبے اگلے چندبرسوں میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیداکرسکتے ہیں،تاہم اس کیلیے حکومت کو جامع اسکل ڈیولپمنٹ روڈمیپ اور تربیتی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی، حکومت اس وقت ای کامرس پالیسی 2.0 کی منظوری کے مراحل میں ہے،جس میں پانچ اسٹریٹجک ستون شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پالیسی مضبوط ہے،مگر اس میں ورک فورس ڈویلپمنٹ کو مرکزی حیثیت دیناچاہیے،کیونکہ ای کامرس کی مہارتیں روایتی آئی ٹی اسکلزسے مختلف اورزیادہ متنوع ہیں۔ ایس آئی گلوبل سولوشنزکے سی ای او ڈاکٹر نعمان سعید نے کہاکہ روایتی تجارت کو ای کامرس میں تبدیل کرنے کیلیے جدیدلاجسٹکس،ادائیگی کے نظام اور ہنرمندافرادی قوت ناگزیر ہیں،ای کامرس ملٹی ڈسپلنری نظام ہے،جس میں سیلز، مارکیٹنگ، ٹیکنالوجی اور آپریشنزکے امتزاج کی ضرورت ہوتی ہے،لہٰذاتربیت اہم عنصر ہے۔
انہوں نے حکومت کو ای کامرس اور اس کے ذیلی شعبوں کی ضرورت کے مطابق خصوصی تربیتی پروگرام اور کورسز بنانے کی تجویز بھی دی۔ حکومتی تخمینوں کے مطابق اس وقت پاکستان کی 7 لاکھ سے زائدایس ایم ایز سوشل میڈیا اسٹورز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن کاروبارکر رہی ہیں،جو زیادہ تر مقامی مارکیٹ کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان ای کامرس ایسوسی ایشن کراچی چیپٹرکے صدر شعیب بھٹی نے بھی کہاکہ مختلف ای کامرس شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی شدیدکمی ہے،جبکہ معیاری تربیتی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں، گزشتہ 10 سے 12 سال میں ای کامرس تیزی سے بڑھاہے،مگر تربیت یافتہ افرادکی کمی اس ترقی کومحدودکر رہی ہے۔
پاکستان کا ای کامرس مارکیٹ اس وقت 5 ارب ڈالرزکے لگ بھگ ہے،جبکہ ای کامرس پالیسی 2.0 کے تحت اسے 2030 تک 20 ارب ڈالرز تک لے جانے کاہدف مقررکیاگیاہے،جس سے ہزاروں ملازمتوں کے امکانات پیدا ہونگے۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ایس ای اوکی ماہر حافظہ سدرہ جاوید نے کہاکہ پاکستان میں ای کامرس کابڑادارومدار ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر ہے،جوفروخت،کسٹمر انگیجمنٹ اور برانڈگروتھ کابنیادی ذریعہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔