کانگریس صدر نے اپنے پیغام میں تمام صحافیوں اور میڈیا اہلکاروں کو نیشنل پریس ڈے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا ملک کے جمہوری اداروں کا محافظ ہے اور اسکی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بے خوف ہوکر سچ سامنے لائے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل پریس ڈے کے موقع پر کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے اور کانگریس کے سرکاری ہینڈل نے آزاد، بے باک اور ذمہ دار صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے میڈیا کے کردار پر بھرپور روشنی ڈالی۔ دونوں بیانات میں کہا گیا کہ ایک مضبوط اور شفاف جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ پریس دباؤ سے آزاد ہو، سچ بولے اور حکومت کی ہر کارروائی پر سوال اٹھا سکے۔ ملکارجن کھڑگے نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں تمام صحافیوں اور میڈیا اہلکاروں کو نیشنل پریس ڈے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا ملک کے جمہوری اداروں کا محافظ ہے اور اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بے خوف ہو کر سچ سامنے لائے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا اصل کام صرف حکومت کے بیانیے کو بڑھانا یا اس کی ناکامیوں کو چھپانا نہیں بلکہ ہر قدم پر حکومت اور وزیر اعظم سے سوال کرنا ہے، کیونکہ یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ میڈیا کو چاہیئے کہ وہ کسی خوف یا مصلحت کے بغیر کام کرے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایک حقیقی آزاد پریس کبھی بھی حکومت کے تعصبات کا آلہ کار نہیں بنتا، بلکہ وہ حکومت کے ہر اقدام کو جانچتا ہے اور عوام کے سامنے حقائق رکھتا ہے۔ ادھر کانگریس کے آفیشل ہینڈل سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان کی جمہوریت ایک آزاد اور بے خوف پریس پر قائم ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کانگریس نے ہمیشہ پریس کی آزادی، شہریوں کے حقِ معلومات اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے آواز اٹھائی ہے۔ کانگریس نے آزاد صحافت کو جمہوری عمل کا بنیادی ستون قرار دیا اور کہا کہ صحافیوں کو اپنے فرائض انجام دینے کے لئے ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جہاں وہ دباؤ یا خطرے کے بغیر سچ کہہ سکیں۔

خیال رہے کہ نیشنل پریس ڈے ہر سال 16 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1966ء میں پریس کونسل آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ملک میں پریس کی آزادی کا تحفظ کرنا اور صحافتی اقدار کی نگرانی کرنا ہے۔ یہ دن صحافیوں کے کردار، میڈیا کی آزادی اور عوام کو باخبر رکھنے کے عمل کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ نیشنل پریس ڈے کا مقصد یہ بھی ہے کہ صحافتی دنیا کو درپیش چیلنجز، خطرات اور دباؤ پر گفتگو کی جائے اور ایک ایسے ماحول کی وکالت کی جائے جہاں پریس آزادانہ طور پر اپنا فریضہ انجام دے سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملکارجن کھڑگے نیشنل پریس ڈے کہا کہ میڈیا میں کہا

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان