اس بار زیادہ ڈیلیور کرکے دکھائیں گے، پالیسیاں عوامی مفاد میں بنیں گی، وزیراعلیٰ پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ قربانیاں کے پی کے عوام نے دی ہیں، نیٹ ہائیڈل پروفٹ میں ہمارے 2200 ارب روپے بقایہ ہیں، اب تک 700 ارب روپے ہمارے قبائلی اضلاع کے بنتے ہیں جن میں 500 ارب اب بھی بقایہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اس بار زیادہ ڈیلیور کرکے دکھائیں گے، پالیسیاں عوامی مفاد میں بنیں گی۔ پشاور بیوٹی فکیشن تقریب سے خطاب میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پشاور صوبہ کا دارالخلافہ ہے اور اس کو خوبصورت ترین بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ قربانیاں کے پی کے عوام نے دی ہیں، نیٹ ہائیڈل پروفٹ میں ہمارے 2200 ارب روپے بقایہ ہیں، اب تک 700 ارب روپے ہمارے قبائلی اضلاع کے بنتے ہیں جن میں 500 ارب اب بھی بقایہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی کا ہمارا شیئر 19 اعشاریہ 4 فیصد بنتا ہے، وفاق اپنی ذمہ داری نبھائے اور کے پی کے عوام سے سوتیلی ماں کا سلوک بند کرے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس بار زیادہ ڈیلیور کرکے دکھائیں گے، قانون میں کسی کو استثنیٰ نہیں دیں گے، پالیسیاں عوامی مفاد میں بنیں گی، عوام مطمئن رہیں، سیاسی جدوجہد سے بانی کے ویژن کے مطابق کام کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔