ماہانہ 3 ہزار سے زائد اسرائیلی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، عبرانی میڈیا کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی مسلسل ناکامیوں، سیاسی انتشار اور بڑھتے جبر نے ہزاروں اسرائیلیوں کو شدید مایوسی میں دھکیل دیا ہے اور بہت سے لوگ یہاں سے ہجرت کو بہتر راستہ سمجھنے لگے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جعلی صیہونی ریاست کی بنیادیں ہلنا شروع ہو گئی ہیں، عبرانی میڈیا کے مطابق ہزاروں اسرائیلی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ عبرانی اخبار "دی مارکر" نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں قابض اسرائیل کے اندر ایک غیر معمولی بیرون ملک نقل مکانی کی لہر اٹھی ہے جس میں بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری ریاست چھوڑ کر باہر جانے لگے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ فرار اس وجہ سے بڑھا ہے کہ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ پر حملوں کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بنجمن نیتن یاھو کی سربراہی میں قابض حکومت اپنی سکیورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری سے نظریں چرانے کی خاطر 7 اکتوبر کے واقعات کی آزاد تحقیقاتی کمیٹی کے قیام سے انکار کر رہی ہے اور اس کے بجائے عدلیہ، پولیس اور ذرائع ابلاغ کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی مسلسل ناکامیوں، سیاسی انتشار اور بڑھتے جبر نے ہزاروں اسرائیلیوں کو شدید مایوسی میں دھکیل دیا ہے اور بہت سے لوگ یہاں سے ہجرت کو بہتر راستہ سمجھنے لگے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد ہر ماہ اوسطاً 6 ہزار 16 اسرائیلی ملک چھوڑ رہے ہیں جو گذشتہ چار برسوں کی نسبت تقریباً دگنا اضافہ ہے۔ اسی طرح خالص نقل مکانی یعنی جانے والوں میں سے واپس آنے والوں کو منہا کرنے کے بعد ماہانہ اوسط 3 ہزار 910 افراد بنتا ہے جبکہ اس سے قبل یہی شرح 1 ہزار 146 افراد ماہانہ تھی۔ اعداد و شمار مزید بتاتے ہیں کہ ہجرت کرنے والوں میں زیادہ تر پڑھے لکھے نوجوان شامل ہیں اور تل ابیب سے نقل مکانی میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مرکزی اعداد و شمار بیورو کے مطابق تل ابیب سے سنہ 2024ء میں ہجرت کی شرح 14 فیصد رہی جبکہ سنہ 2010ء میں یہ شرح 9.
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سیاسی بحران کے تسلسل، اندرونی دراڑوں کی گہرائی اور حکومتی اداروں پر عوامی اعتماد کے تیزی سے زوال پانے کی وجہ سے ہجرت کی یہ لہر مزید تیز ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت مسلسل 7 اکتوبر کی ناکامیوں اور اپنی تاریخ کی سب سے طویل اور مہنگی جنگ کے نتائج کی تحقیق سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ حکومت کے مطابق گیا ہے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔