وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا بے بنیاد اور نفرت انگیز بیان، عوام کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پشاور:
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بے بنیاد اور نفرت انگیز بیان پر صوبے کے عوام نے شدید ردعمل دیا ہے۔
شدید ردعمل میں شہریوں کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے سرحدوں اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مساجد کے حوالے سے نہایت غلط بیان دیا ہے اور انکے بیان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان سے ملک پر برے اثرات پڑیں گے، پاک فوج کی جانب سے تمام امور پر نہایت اچھے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اپنی سیاست کے لیے آخری حد پار کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہمارا مقدس ادارہ ہے جس نے بہت قربانیاں دی ہیں اس کو بدنام کرنا غلط ہے۔ پاک فوج ہماری سرحدوں کی محافظ ہے لہٰذا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ایسی حرکتوں سے باز رہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات کا مقصد دشمن بھارت کو خوش کرنا ہے۔ پاک فوج نے ہمیشہ اپنی عوام کا ساتھ دیا ہے اور بہترین کردار ادا کیا ہے۔
شہریوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو چاہیے کہ اپنے صوبہ پر توجہ دے اور ترقی کیلئے اقدامات کرے۔ اداروں کو نشانہ بنانا مناسب نہیں، پاک فوج نے پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان کا مقصد پاک فوج کے خلاف نفرت اور انتشار پھیلانا ہے جو کسی بھی محب وطن کو قبول نہیں، وزیر اعلیٰ اہم عہدے کے باوجود چور اور بدعنوان شخص ہے جس کے پاس عزت کیے ساتھ بیان کرنے کو الفاظ نہیں ہیں۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہمیشہ پاک فوج کے خلاف سخت اور بے بنیاد باتیں کرتے رہتے ہیں، افواج پاکستان اس ملک کی اصل محافظ ہیں جن کے جوان جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پاک فوج کہ وزیر
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :