پشاور:

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بے بنیاد اور نفرت انگیز بیان پر صوبے کے عوام نے شدید ردعمل دیا ہے۔

شدید ردعمل میں شہریوں کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے سرحدوں اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مساجد کے حوالے سے نہایت غلط بیان دیا ہے اور انکے بیان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان سے ملک پر برے اثرات پڑیں گے، پاک فوج کی جانب سے تمام امور پر نہایت اچھے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اپنی سیاست کے لیے آخری حد پار کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہمارا مقدس ادارہ ہے جس نے بہت قربانیاں دی ہیں اس کو بدنام کرنا غلط ہے۔ پاک فوج ہماری سرحدوں کی محافظ ہے لہٰذا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ایسی حرکتوں سے باز رہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات کا مقصد دشمن بھارت کو خوش کرنا ہے۔ پاک فوج نے ہمیشہ اپنی عوام کا ساتھ دیا ہے اور بہترین کردار ادا کیا ہے۔

شہریوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو چاہیے کہ اپنے صوبہ پر توجہ دے اور ترقی کیلئے اقدامات کرے۔ اداروں کو نشانہ بنانا مناسب نہیں، پاک فوج نے پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان کا مقصد پاک فوج کے خلاف نفرت اور انتشار پھیلانا ہے جو کسی بھی محب وطن کو قبول نہیں، وزیر اعلیٰ اہم عہدے کے باوجود چور اور بدعنوان شخص ہے جس کے پاس عزت کیے ساتھ بیان کرنے کو الفاظ نہیں ہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہمیشہ پاک فوج کے خلاف سخت اور بے بنیاد باتیں کرتے رہتے ہیں، افواج پاکستان اس ملک کی اصل محافظ ہیں جن کے جوان جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پاک فوج کہ وزیر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن