لاہور ہائیکورٹ کا منشیات مجرمان کی عمر قید سزا میں معافی پر اظہار برہمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
عدالت عالیہ لاہور نے کورٹ سے منشیات کے مجرمان کی عمر قید کی سزا میں معافی دینے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی جیل اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو 24 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
مجرمان محمد عمران اور جاوید اقبال نے عمر قید کی سزا کے خلاف عدالت عالیہ لاہور میں اپیل کی تھی، ان سے 9، 9 کلو ہیروئن برآمد ہوئی تھی، ٹرائل کورٹ نے دونوں مجرمان کو عمر قید کی سزائیں دیں۔
عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ ڈھائی سال میں معافی کی مد میں مجرمان کو 11 سال کی رعایت دی گئی، یہاں چھوٹے چھوٹے جرائم میں لوگ کئی کئی سال تک جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔
عدالت عالیہ لاہور نے کہا کہ ڈھائی سال بعد 9، 9 سال کی سزا معافی دے کر 13سال کی سزا مکمل کر دی اور استفسار کیا کہ چھوٹی سزا والوں کو ایسی معافیوں میں کوئی رعایت نہیں ملتی۔
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے وکیل نے کہا کہ جیل افسران کو طلب کرکے پوچھا جائے کہ انہوں نے مجرمان کو سزا میں معافی کیسے دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جتنی زیادہ مقدار میں منشیات برآمد ہوئیں، اسی اسپیڈ سے معافی دی گئی، تمام سزا یافتہ مجرمان جیلوں میں مشقت کرتے ہیں لیکن سب کو معافیوں کی سہولت نہیں ملتی۔
وکیل صفائی نے کہا کہ مجرمان سزا کے بعد جیل کی فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں، ان کے موکل بریت نہیں چاہتے، صرف سزاؤں میں کمی کی استدعا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 24 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔