ہرجانہ کیس: عمران خان کے وکیل کی جرح کیلئے مہلت کی استدعا منظور
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
لاہور کی سیشن کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر ہرجانہ کیس میں عمران خان کے وکیل کی جرح کے لیے مہلت کی استدعا منظور کرلی۔سیشن عدالت کے جج یلماز غنی نے شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانہ کیس سے متعلق گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔تحریری حکم میں کہا کہ شہباز شریف کے گواہ عطا اللہ تارڑ عدالت میں پیش ہوئے اور ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا، عمران خان کے وکیل کی جرح کے کے لیے مہلت کی استدعا بھی منظور کی گئی ہے اور اب عطا اللہ تارڑ 15 نومبر کو بیان پر جرح کے لیے پیش ہوں گے۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے عمران خان کے خلاف10 ارب روپےہرجانےکا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔