معلوم نہیں کہ غزہ میں کب تک جنگبندی قائم رہے، نتین یاہو
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
اپنی ایک رپورٹ میں صیہونی نیوز ویب کا کہنا تھا کہ بدامنی اور اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے امکان کے باعث دوسرے ممالک، غزہ میں اپنی افواج بھجوانے سے کترا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی وزیراعظم "نتین یاہو" نے کہا کہ ہتھیاروں سے پاک غزہ منصوبہ ترک نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس مسئلے کو کابینہ میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ غزہ میں کب تک جنگ بندی نافذ العمل رہے گی۔ اس سلسلے میں عبرانی ویب سائٹ واللا نے رپورٹ دی کہ ٹرمپ انتظامیہ، اسرائیل پر جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے دباو ڈال رہی ہے، جس سے صیہونی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی صیہونی پریشانی کا سبب ہے کہ بدامنی اور اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے امکان کے باعث دوسرے ممالک، غزہ میں اپنی افواج بھجوانے سے کترا رہے ہیں۔ مذکورہ نیوز ویب نے اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی کہ اب تک کسی بھی ملک نے غزہ بھیجی جانے والی امن فورس کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، جس سے اسرائیلی سیکورٹی اداروں میں اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے امریکی دباؤ پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
اسی دوران صیہونی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے رپورٹ دی کہ اسرائیل نے آخری لمحات تک امریکی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ آئندہ کل سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی امریکی قرارداد کے مسودے کو نرم کرے اور صیہونی رژیم کے مفادات کے مطابق تبدیل کرے۔ واضح رہے کہ اس مسودے میں غزہ کی پٹی میں ملٹی نیشنل فورسز اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا معاملہ زیر بحث ہے۔ امریکی قرارداد کے اس مسودے میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں استحکام کے لئے مصر اور اسرائیل کے تعاون سے بین الاقوامی فورس تعینات کی جائے گی۔ اس کے علاوہ حماس کی حکومت کی تبدیلی اور اسرائیلی فوج کا انخلاء کیسے عمل میں آئے گا، جب کہ سرحدوں کی نگرانی کے لئے ایک فلسطینی پولیس فورس تعینات کی جائے گی۔ استقامتی محاذ کو غیر مسلح کرنے کا منصونہ بھی اس مسودے میں شامل ہے۔ حالانکہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہ بارہا یقین دلا چکے ہیں کہ جب تک صیہونی قبضہ باقی ہے وہ اسلحہ نہیں پھینکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لئے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔