Islam Times:
2026-07-24@10:28:33 GMT

معلوم نہیں کہ غزہ میں کب تک جنگبندی قائم رہے، نتین یاہو

اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT

معلوم نہیں کہ غزہ میں کب تک جنگبندی قائم رہے، نتین یاہو

اپنی ایک رپورٹ میں صیہونی نیوز ویب کا کہنا تھا کہ بدامنی اور اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے امکان کے باعث دوسرے ممالک، غزہ میں اپنی افواج بھجوانے سے کترا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی وزیراعظم "نتین یاہو" نے کہا کہ ہتھیاروں سے پاک غزہ منصوبہ ترک نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس مسئلے کو کابینہ میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ غزہ میں کب تک جنگ بندی نافذ العمل رہے گی۔ اس سلسلے میں عبرانی ویب سائٹ واللا نے رپورٹ دی کہ ٹرمپ انتظامیہ، اسرائیل پر جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے دباو ڈال رہی ہے، جس سے صیہونی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی صیہونی پریشانی کا سبب ہے کہ بدامنی اور اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے امکان کے باعث دوسرے ممالک، غزہ میں اپنی افواج بھجوانے سے کترا رہے ہیں۔ مذکورہ نیوز ویب نے اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی کہ اب تک کسی بھی ملک نے غزہ بھیجی جانے والی امن فورس کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، جس سے اسرائیلی سیکورٹی اداروں میں اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے امریکی دباؤ پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ 

اسی دوران صیہونی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے رپورٹ دی کہ اسرائیل نے آخری لمحات تک امریکی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ  آئندہ کل سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی امریکی قرارداد کے مسودے کو نرم کرے اور صیہونی رژیم کے مفادات کے مطابق تبدیل کرے۔ واضح رہے کہ اس مسودے میں غزہ کی پٹی میں ملٹی نیشنل فورسز اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا معاملہ زیر بحث ہے۔ امریکی قرارداد کے اس مسودے میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں استحکام کے لئے مصر اور اسرائیل کے تعاون سے بین الاقوامی فورس تعینات کی جائے گی۔ اس کے علاوہ حماس کی حکومت کی تبدیلی اور اسرائیلی فوج کا انخلاء کیسے عمل میں آئے گا، جب کہ سرحدوں کی نگرانی کے لئے ایک فلسطینی پولیس فورس تعینات کی جائے گی۔ استقامتی محاذ کو غیر مسلح کرنے کا منصونہ بھی اس مسودے میں شامل ہے۔ حالانکہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہ بارہا یقین دلا چکے ہیں کہ جب تک صیہونی قبضہ باقی ہے وہ اسلحہ نہیں پھینکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لئے

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل