راولپنڈی؛ غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشدوں کی گرفتاری کا حکم، ٹاسک فورس قائم
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
راولپنڈی:
پولیس نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی گرفتاری اور واپس بھیجنےکے معاملے پر 13تھانوں میں ٹاسک فورس قائم کر دیا اور غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ایس ایس پی آپریشنز کی ہدایت پر مذکورہ ٹاسک فورس روانہ کی بنیاد پر غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور ہدایت کی گئی ہے کہ ٹاسک فورس میں شامل پولیس ملازمین کو اضافی ڈیوٹی پر نہ بھیجا جائے۔
ٹاسک فورس میں شامل افسران کو روازنہ کی بنیاد پر رپورٹ اعلی حکام کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے، ٹاسک فورس تھانہ پیرودھائی، رتہ امرال، ٹیکسلا اور واہ کینٹ، تھانہ صدر واہ، مندرہ، جاتلی، روات، صدر بیرونی، دھمیال، چونترہ، چکری اور نصیرآباد میں قائم کی گئی ہے۔
تھانوں کی سطح پر قائم ٹاسک فورس کی سربراہی سب انسپکٹر اور اے ایس آئی کو سونپ دی گئی ہے، ہر تھانے کی ٹاسک فورس میں 4 ممبران ہوں گے، ٹاسک فورس کو تھانہ کے ڈی ایف سی، فیلڈ اسٹاف سیکیورٹی برانچ کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔
مذکورہ ٹاسک فورس کو تھانوں کی سطح پر سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ اسٹاف کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقیم افغان ٹاسک فورس گئی ہے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔