اسلام آباد کچہری خودکش حملے کا سہولت کار اور ہینڈلر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش حملے کے سہولت کاروں کا ریکٹ بے نقاب ہوگیا جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
ذرائع نے کہا کہ سی ٹی ڈی راولپنڈی نے سہولت کاروں و ہینڈلرز کو راولپنڈی پشاور میں چھاپے مارکر گرفتار کر لیا، مجموعی طور پر 6 سے 7 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
ذرائع نے کہا کہ چھاپے پیرودھائی، ڈھوک کشمیریاں اور خیر پختونخواہ میں متعلقہ اداروں کو آن بورڈ رکھ کر مارے گئے۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ پانچ افراد کو راولپنڈی اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا، کس سہولت کار نے حملہ آور کو کیا کیا مدد کی اس کا تعین ہورہا ہے، حملہ آور گولڑہ سے پہلے ایک اور آن لائن بائیکیا سروس کے ذریعے 26 نمبر چونگی سے آیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور گولڑہ سے کچہری تک ماسک پہن کر آیا تھا، زیرحراست افراد سے الگ الگ مقامات پر تفتیش کا عمل شروع کردیا گیاْ۔
اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش حملے میں 12 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔